خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 532 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 532

532 ہے۔میں جوں جوں ان مسائل پر غور کرتی ہوں اتنا ہی ماں اور باپ دونوں اپنی اولاد کی تربیت اور نگرانی نہ کرنے کے گناہ میں ملوث نظر آتے ہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ماں یا باپ غیرت مند ہوں اور اس کی لڑکی عریاں لباس میں اس کے سامنے آئے اور وہ اسے برداشت کر لے؟ ایک بچی کے متعلق پر وہ ترک کرنے کی اطلاع اسے ملے اور وہ اسے برداشت کر لے؟ ایک بچی بازاروں میں ماری ماری پھرے اس کی سوسائٹی اچھی نہ ہو اور ماں باپ اسے برداشت کر لیں؟ اگر ماں باپ برداشت کر سکتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ خود کو بھی قرآنی احکام کا پابند نہیں سمجھتے وہ خود بھی نام نہاد مسلمان ہیں حقیقی ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔چونکہ خود اسلام کے صحیح مفہوم سے نا آشنا ہیں اولاد کی بھی تربیت نہیں کر سکتے۔بچوں کو قوم اور مذہب کی قربانیوں کے لئے تیار کرنا بھی ماں باپ کا ہی کام ہے۔آج (18اکتوبر ) کے ہی خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے بچوں اور ان کے ماں باپ کو چندہ وقف جدید کی طرف توجہ دلائی ہے۔ہماری مستورات کو عموماً اور عہدیداران لجنات کو میں خصوصاً توجہ دلاتی ہوں کہ سال رواں کے پروگرام میں چندہ ناصرات وقف جدید کی طرف خاص توجہ دیں۔وہ بچیاں جو روزانہ سکول میں ایک آنہ دو آنہ اپنے کھانے پر خرچ کرتی ہیں ان میں قوم کی خاطر قربانی کا جذ بہ پیدا کریں اور بتائیں کہ میرم وہ وقف جدید میں دیں ان کو حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر فوری لبیک کہنے اور آپ کے احکام کی اطاعت کرنے اور نیکیوں اور قربانیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا جذبہ پیدا کریں تو تمام بچے کیا صرف ناصرات ہی اگر ہمت کریں تو وقف جدید کا بجٹ پورا کرسکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے۔آمین۔جہاں ماں باپ پر قرآن مجید نے ذمہ داری ڈالی ہے وہاں ماں باپ کے اسلام نے حقوق بھی رکھے ہیں اور ان حقوق کی ادائیگی احکام اسلامی معاشرہ کا ایک ضروری حصہ ہے۔بچے والدین کی عزت کریں۔فرماں برداری کریں اور جب وہ نا قابل ہو جائیں تو ان کے کفیل ہوں۔ان کے احساسات و جذبات کا خیال رکھیں۔لجنہ کے کاموں کے سلسلہ میں میرا گہر اواسطہ خواتین سے ہے۔عموماً مستورات مدد کی طالب ہوتی ہیں جس کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ بستر نہیں گرم کپڑے نہیں۔علاج کی ضرورت ہے وغیرہ۔جب ان کے حالات کی تحقیق کی جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیٹے موجود ہیں برسر روزگار ہیں لیکن مد نہیں کرتے اور ماں اپنی محبت میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ آپ مدد کریں بے چارہ کیا کرے بیوی ہے چار پانچ بچے ہیں ان کی تعلیم کا بھی خرچ ہے ان کی ہی مشکل سے پوری پڑتی ہے وغیرہ۔یادرکھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار