خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 531
531 صاف صاف کہہ دیا تھا کہ میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوششوں کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوگا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پروا نہیں۔(خطبہ جمعہ 23 جون 67ء) 66 ان امور سے باز نہیں آجانا چاہیے؟ ہزاروں درود اور سلام محمد مصطفے ﷺ پر جنہوں نے عورت کو مٹی سے اٹھا کر ایک ارفع مقام پر پہنچایا اس میں نیکی اور تقویٰ پیدا کرنے کے لئے مردوں کو فرمایا کہ رشتہ کرتے وقت دین دیکھو، نیکی دیکھو، تقویٰ دیکھو، یہ مال و دولت حسن و جمال سب فانی اشیاء ہیں۔اولاد کی صحیح پرورش وہی عورت کرے گی جو خود دیندار ہوگی۔غرض معاشرہ میں اعلیٰ اقدار پیدا کرنے کے لئے ضرورت ہے۔افراد میں اعلیٰ اقدار پیدا کرنے کی اور افراد میں اعلیٰ اقدار پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر مرد اور عورت نیک و پرہیز گار ہو با اخلاق ہو، اولا د خود بخود نیک ، با اخلاق اور پر ہیز گار پیدا ہوگی۔میاں بیوی کے تعلقات کے بعد اولاد پیدا ہوتی ہے جو گو یا تمدن و تہذیب کی دوسری کڑی ہوتی ہے۔اسلام نے اولاد کی پرورش اور اعلیٰ تربیت اور بُرائیوں سے محفوظ رکھنے پر بہت زور دیا ہے۔ان پر خرچ کرو اپنی استطاعت کے مطابق۔ان کے جذبات کا خیال رکھو۔اعلیٰ اخلاق ان میں پیدا کرو۔بچپن سے تربیت شروع کرو۔لڑکیوں کی تربیت کے متعلق خاص ارشاد فرمایا کہ جس کے گھر میں لڑکی پیدا ہواور وہ اس کی اچھی تربیت کرتے تو اس کا یہ کام اس کو آگ سے بچانے والا ہو گا لیکن موجودہ زمانہ کے ماں باپ صرف کھلانے پہنانے اور سکول کالج تک بھجوا دینے کے ذمہ دار اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔بچپن میں ہی اللہ تعالیٰ ، آنحضرت اور مذہب کی محبت بچوں کے دلوں میں پیدا نہیں کرتے۔بنیاد مضبوط نہیں ہوتی۔جوں جوں وہ بڑے ہوتے جاتے ہیں اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوتے جاتے ہیں۔جولڑکیوں کی صورت میں بے پردگی مخلوط تعلیم کا شوق، بے حیائی اور حدود اخلاق اور حدود اسلامی معاشرہ کو توڑنے کی صورت میں نکلتا