خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 527 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 527

527 افتتاحی خطاب بر موقع سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 1968ء آپ نے فرمایا میری منھی منھی اور نہایت ہی عزیز بچیو۔آج کا اجلاس صرف آپ کا اجلاس ہے اس لئے اس تھوڑے سے وقت کو بڑی ہی خاموشی اور بہت ہی سکون سے گزار دو۔آپ کی تنظیم کا نام ہے ناصرات الاحمدیہ یعنی احمدیت کی مدد کرنے والیاں۔اس نام سے آپ پکاری تو جاتی ہیں لیکن کبھی غور کیا کہ آخر اس نام کے انتخاب کی وجہ کیا ہے۔آپ میں سے ہر ایک اس نام پر غور کرے اور اپنے اقوال افعال اور حرکات سے جماعت احمدیہ کی مد و معاون بننے کی کوشش کرے۔میری بچیو! اپنے نام کی ہمیشہ لاج رکھیو اپنے جھنڈے کو کبھی نیچے نہ ہونے دینا اور حقیقی معنوں میں احمدیت کو تقویت پہنچانے والی ثابت ہو۔سات سے پندرہ سال تک کی عمر کا عرصہ آپ کی ٹریننگ کا زمانہ ہے جس میں آپ کو لجنہ کی بہترین نمبر اور کارکن بننے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔جو بچی بھی اپنے اوقات کو ضائع کرتی اور ان آٹھ سالوں میں کچھ نہیں سیکھتی وہ ناصرات الاحمدیہ بننے کے لائق نہیں۔اس کے بعد حضرت سیدہ موصوفہ نے آئندہ سال کے لئے بچیوں کے سامنے ایک پانچ نکاتی پروگرام پیش کیا اور اس امر کی وضاحت کی کہ اس لائحہ عمل پر کار بند رہنے والی بچیاں ہی آئندہ انعامات حاصل کرنے کی مستحق قرار دی جائیں گی۔اس پروگرام کی پہلی شق " صداقت پر مبنی تھی۔یعنی ہر بچی سچ بولنے کی عادت کو اس پختگی سے اپنالے کہ کوئی بڑے سے بڑا طوفان اسے جھوٹ بولنے پر آمادہ نہ کر سکے۔پھر فرمایا وہ اتنی دیانت دار ہو کہ اس کی دیانتداری کی قسم کھائی جاسکے۔محنت کی عادت اس کے اندر اس طرح راسخ ہو جائے کہ ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں فخر محسوس کرے۔نیز وقت کی پابند ہو۔اور اپنے لباس کی، ماحول کی ، گھر کی غرض ہر چیز کی صفائی کا خاص خیال رکھنے والی ہو۔وو آپ نے ناصرات الاحمدیہ کی نگرانوں کو یہ صیحت کی کہ آئندہ سال بھر وہ بنظر غائر اس چیز کا جائزہ لیتی رہیں کہ کن کن بچیوں نے ان پانچوں صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی کے مطابق رپورٹیں بھجوائیں۔خطاب کے آخر میں آپ نے فرمایا کہ میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقی معنوں میں ناصرات الاحمدیہ بننے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ اپنے عمل سے، اپنے کردار سے ، اپنے اخلاق سے دنیا پر یہ ثابت کر دیں کہ ہم واقعی ناصرات الاحمدیہ یعنی احمدیت اور اسلام کو تقویت پہنچانے والی ہیں۔(الفضل 7 نومبر 1968 ء)