خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 528 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 528

528 خطاب برموقع سالانہ اجتماع 1968ء ”ہمارا سب سے بڑا کام اپنی اور اپنی اولاد کی تربیت اور اسلامی تہذیب و تمدن کا قیام ہے“ تمام نمائندگان کو السلام علیکم کا تحفہ پیش کرتے ہوئے خوش آمدید کہتی ہوں۔جس غرض کے لئے یہ اجتماع منعقد کیا جارہا ہے اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس مقصد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آپ کو چاہئے کہ یہ مختصر عرصہ ذکر الہی تسبیح وتحمید، درود شریف پڑھنے۔دعائیں کرنے اور باجماعت نمازوں کی ادائیگی۔سکون کے ساتھ پروگراموں کو سنے اور آئندہ کے لئے بہتر لائحہ عمل اختیار کرنے کے لئے تدابیر سوچنے میں بسر کریں۔اجتماع کے پروگراموں سے متعلق آپ بہت دیر سے اپنے مشورے بھجواتی ہیں۔حالانکہ شروع سال سے ہی لجنہ کو غور کرتے رہنا چاہئے کہ کیا اقدامات پروگراموں کو بہتر بنانے اور لجنہ اماءاللہ کی ترقی کے لئے اختیار کئے جاسکتے ہیں۔آپ کا مرکز میں قیام کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونا چاہئے۔اپنے ساتھ آنے والے بچوں کی نگرانی بھی رکھیں تا وہ بھی یہاں سے فائدہ حاصل کر کے جائیں۔صفائی اور ماحول کو ستھرا اور پاکیزہ ظاہری لحاظ سے بھی اور باطنی لحاظ سے بھی بنانے کی کوشش کریں۔ظاہر کا اثر روحانیت پر پڑتا ہے ظاہری طور پر کسی قسم کی گندگی نہ ہونے دیں خواہ وہ ربوہ کی خواتین ہوں یا بیرون ربوہ کی۔لجنہ اماءاللہ کے کاموں کا اگر جائزہ لیا جائے تو جہاں دوسرے شعبہ جات میں بہنوں نے بڑی ہمت اور قربانی سے کام لیا ہے۔تربیت کی طرف سب سے کم توجہ دی ہے۔حالانکہ ہمارا سب سے بڑا کام اپنی اور اپنی اولادوں کی تربیت کرتے ہوئے اسلامی تمدن و تہذیب کا پھر سے قیام کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض کوئی نیا پیغام دنیا کو دینا نہیں تھا بلکہ اسلامی تہذیب کو پھر سے رائج کرنا ہے جو چودہ سو سال قبل اسلام کے ذریعہ رائج ہو چکی تھی۔اسی قرآنی شمع کے نور کو دنیا میں پھیلانا جس کی روشنی دنیا کے چاروں طرف ایک دفعہ پھیل کر پھر مدھم پڑ چکی تھی اور اس روشنی سے بنی نوع انسان کو صحیح راستہ دکھاتے ہوئے اس کا تعلق اپنے رب کریم سے مضبوط کرنا تھا جو ایک انسان کی پیدائش کا مقصدا علیٰ ہے۔