خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 524 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 524

524 يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (سورة البقرة: 223) جتنا زور اسلام نے صفائی اور پاکیزگی پر دیا ہے اتنا کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔لیکن بدقسمتی سے آج مسلمانوں میں صفائی کا اتنا خیال نہیں جتنا غیر قوموں میں اور غیر مذاہب کے لوگوں میں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ (صحيح مسلم كتاب الطهارة) طہارت یعنی صاف ستھرا اور پاکیزہ رہنا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔گویا گندے رہنے والے آدمی کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کی عظیم الشان ذمہ داری سپر د کی تو فرمایا : وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ ان آیات کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔اپنے کپڑے صاف رکھو بدن کو اور گھر کو اور کوچہ کو اور ہر ایک جگہ کو جہاں تمہاری نشست ہو۔پلیدی (سورة المدثر: 5-6) اور میل کچیل اور کثافت سے بچاؤ یعنی غسل کرتے رہو۔اور گھروں کو صاف رکھنے کی عادت پکڑو۔“ روحانی خزائن جلد 10 اسلامی اصول کی فلاسفی ص 337 صفائی میں باطنی صفائی۔دل کی صفائی ، لباس گھر ، ماحول، بچے سب ہی شامل ہیں۔یہ اہم ذمہ داری اپنے گھر، ماحول کو صاف رکھنے کی خواتین کے ذمہ ہے۔مرد یہ کام نہیں کر سکتے۔ان کا وقت زیادہ تر باہر گذرتا ہے۔احمدی بہنوں کواللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ صفائی اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔انبیاء کی بعثت کی غرض بھی دلوں کو پاکیزہ کرنا ہوتی ہے۔اور جب تک ظاہری طور پر جسم ، گھر ، ماحول پاکیزہ نہیں ہوگا۔دل بھی پاکیزہ نہیں ہو سکتے۔ایک اور خوبی جواللہ تعالیٰ کی محبت کو کھینچتی ہے۔یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔(سورة آل عمران: 147) وَاللهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، صبر ایک اعلیٰ درجہ کا خلق ہے۔اور خدا تعالیٰ کے محبوب بندے وہی ہوتے ہیں جو ہر قسم کے مصائب اور مشکلات میں حوصلہ نہیں ہارتے اور اناللہ وانا اليه راجعون کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار رہتے ہیں۔اور ہمیشہ اس کی رضا پر راضی رہنے میں ہی اپنی فلاح سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔