خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 523
523 پھر کبھی نہیں کرے گا۔تیسرے پچھلے گناہ پر ہمیشہ شرمندگی محسوس کرتا رہے۔اور چوتھے اگر قصور یا گناہ کسی انسان کا کیا ہے تو اس کی تلافی کرے اس کا چھینا ہوا حق اسے واپس کرے۔ایک اور علامت محبت الہی کی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (سورة آل عمران:160) اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔تو کل کے یہ معنے نہیں کہ انسان تدبیر اختیار نہ کرے بلکہ تو کل کا مفہوم یہ ہے کہ ظاہری تدابیراللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق اختیار کرے پھر نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اصل میں تو کل ہی ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کو کامیاب وبا مراد بنا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے من يتوكل على الله فهو حسبه (الطلاق: 4) جواللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہو جاتا ہے۔بشرطیکہ سچے دل سے تو کل کے اصلی مفہوم کوسمجھ کر صدق دل سے قدم رکھنے والا ہو اور صبر کرنے والا اور مستقل مزاج ہو۔مشکلات سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹ جاؤئے۔ملفوظات جلد پنجم صفحہ 543 حضرت مصلح موعود کا ایک شعر یاد آ گیا جو اسی مفہوم کو ادا کرتا ہے۔66 کر تو کل جس قدر چاہے کہ اک نعمت ہے یہ بتادے باندھ رکھا اونٹ کا گھٹنا بھی ہے محبت الہی حاصل کرنے کا ایک اور طریق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (سورة المائده:43) انصاف قائم کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے یہ ایک بہت اعلیٰ اسلامی خلق ہے۔اسلامی تاریخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کی زندگیوں کے منصفانہ واقعات سے بھری پڑی ہے۔ہمیں بھی چاہئے کہ کسی صورت میں انصاف کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں کہ یہ بھی ایک ذریعہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔کہ جب کوئی حاکم سوچ سمجھ کر اور پوری تحقیق کے بعد فیصلہ کرے۔اگر اس کا فیصلہ صحیح ہے تو اسے دو ثواب ملیں گے اور اگر با وجود کوشش کے اس سے غلط فیصلہ ہو گیا تو اُسے ایک ثواب ملے گا۔بخاری ہے پھر ایک اور طریق قرآن نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔