خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 522
522 إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (سورة البقرة: 196) اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پیار کرتا ہے۔احسان کے کئی معنے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى (سورة النحل: 91) اللہ تعالیٰ تمہیں عدل و احسان اور ایتاء ذی القربیٰ کا حکم دیتا ہے۔عدل کہتے ہیں برابری کے سلوک کو یعنی جتنی تم سے کوئی نیکی کرے اتنی ہی اس کے ساتھ کرنی یہ معمولی درجہ کی نیکی ہے۔اس سے اگلا قدم احسان ہے یعنی جتنی تم سے کوئی نیکی کرے اس سے بڑھ کر کرو۔یہ حقیقی نیکی ہے۔لفظ احسن کے معنے اپنے فرض اور ذمہ داری کو اچھی اور صحیح طرح نبھانے کے بھی ہیں۔یعنی وہی لوگ خدا تعالیٰ کی محبت حاصل کرتے ہیں جو اپنے ہر کام کو پورے طور پر جیسا اس کے کرنے کا حق ہے کرتے ہیں۔کام سے جی نہیں چراتے کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑتے۔خواہ عبادت ہو یا مخلوق خدا کے حقوق ہوں یا قومی ذمہ داریاں ہوں۔جو کام اپنے ذمہ لیتے ہیں اسے پوری طرح نبھاتے ہیں۔عورتوں میں عام طور پر یہ کمزوری پائی جاتی ہے۔خصوصاً لجنات کی عہدہ داروں میں کہ اپنے فرائض پوری طرح نہیں نبھا تیں۔ایک کام کے متعلق وقتی جوش ہوتا ہے۔پھر ست ہو جاتی ہیں اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو سکتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ (سورة البقرة: 223) اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والے اس کے حضور اپنی غلطیوں پر نادم ہو کر جھکنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ہر انسان غلطی کا پتلا ہے۔دانستہ یا نادانستہ اس سے گناہ ہوتے رہتے ہیں۔لیکن جو شخص سچی توبہ کرے اور خدا تعالیٰ کے حضور بار بار ندامت کا اظہار کرے اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے گناہ بخش دیتا ہے بلکہ وہ درگاہ الٹی میں مقبول بھی ہو جاتا ہے۔اسلام کا انسانیت پر یہ بہت ہی بڑا احسان ہے کہ مایوسی نہیں پیدا ہونے دیتا۔اتنا بڑا احسان کسی اور مذہب نے اپنے ماننے والوں پر نہیں کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اپنے بندہ کی تو بہ پر اللہ تعالیٰ اتنا خوش ہوتا ہے کہ اتنی خوشی اس آدمی کو بھی نہیں ہوئی ہوگی جسے جنگل میں کھانے پینے سے لدا ہوا گمشدہ اونٹ اچانک مل جائے۔(مسلم کتاب التوبہ ) لیکن تو بہ کی کچھ شرائط ہیں۔ایک یہ کہ جو گناہ کیا ہو اُس سے رُک جائے۔دوسرے یہ ارادہ کرے کہ