خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 36
36 کی۔ملفوظات جلد 1 صفحہ 21-22 نیا ایڈیشن کے ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پردہ کو کتنی اہمیت دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث فرمایا کہ آپ اسلام کو پھر سے زندہ کریں۔قرآن مجید کے ایک ایک حکم پر دنیا کو عمل کروائیں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ بعض عورتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہیں اور آپ کو خدا تعالیٰ کا فرستادہ اور نبی تسلیم کرتی ہیں جو بیعت کرتے وقت کہتی ہیں کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی۔ایک واضح اور صاف قرآنی حکم پر عمل نہیں کرتیں اور پردہ کے معاملہ میں کمزوری دکھا کر جماعت کی بدنامی کا موجب بنتی ہیں۔حضرت آدم کے وقت سے اب تک شیطان مختلف طریقوں سے نسل انسانی کو بہکا تا رہا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید کی سورہ حجر میں آتا ہے:۔قَالَ رَبِّ فَانْظِرْنِى إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ O قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ O قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا زَيَّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ 0 إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ 0 سورہ الحجر آیت 37 تا 41) شیطان کا بھرپور حملہ : اس زمانہ میں جو آخری زمانہ ہے شیطان نے پھر ایک بھر پور حملہ کیا ہے۔اس نے دعوی کیا تھا کہ اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ قرار دیا ہے میں ضرور تیرے بندوں کے لئے دنیا میں گمراہی کو خوبصورت کر کے دکھاؤں گا۔اور ان سب کو گمراہ کروں گا۔مگر جو تیرے برگزیدہ بندے ہیں اور جو میرے فریب میں نہیں آ سکتے وہ بچ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کبھی بھی تسلط نہیں ہوگا۔ہاں ایسے افراد جو تیرے پیچھے چلیں یعنی خود گمراہ ہوں وہ مستی ہیں اور یقینا جہنم ان سب کے لئے وعدہ کی جگہ ہے۔اس زمانہ میں شیطان کا یہ حملہ بے پردگی خلاف شریعت فیشن اور بے جا آزادی کے رنگ میں ظاہر ہوا ہے اور اس کا شکار عورتیں ہو رہی ہیں۔میں اپنی ان بہنوں سے دکھے دل کے ساتھ فریاد کرتی ہوں کہ خُدا را جب انہوں نے اسلام کو سچا مذ ہب سمجھ کر قبول کیا ہے جب وہ بجھتی ہیں کہ ہماری نجات اس مذہب سے وابستہ ہے تو پھر انہیں یہ بھی غور کرنا پڑے گا کہ جس کو اپنا امام اور مطاع مانا ہے۔اس کے ہر حکم پر بلا چون و چر اسر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔فلاح اور نجات اس طرح حاصل نہیں ہو سکتی کہ دعوے تو بہت ہوں لیکن عمل اپنی مرضی کے مطابق ہو۔اس طرح آپ نہ دنیا کی رہیں گی نہ دین کی۔امید ہے کہ میری بہنیں کوشش کریں گی کہ ان کے افعال اسلام اور احمدیت کے دامن پر دھبہ نہ ثابت ہوں۔ورنہ پھر ساری جماعت کو غور کرنا پڑے گا کہ وہ ان کا