خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 521 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 521

521 آگئی ظالم کی کس طرح مدد کریں۔آپ ﷺ نے فرمایا ظالم کا ظلم سے ہاتھ روکنا ہی اس کی مدد ہے۔حضرت مصلح موعود نے جماعت میں مجلس حلف الفضول کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں چلائی تھی کہ ہر شخص جماعت کا عہد کرے۔نہ کسی پر ظلم کرے گا اور نہ کسی پر ظلم ہوتا دیکھے گا۔پس ہماری جماعت کی خواتین کا بھی فرض ہے کہ نہ وہ خود کسی پر ظلم کر یں نہ کسی کے حقوق تلف کریں اور بچوں میں بچپن سے محبت، شفقت ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جذبہ پیدا کریں۔اور ظلم کرنے سے ان کے دلوں میں نفرت پیدا کریں۔یہ تھا منفی پہلو تصویر کا۔اب ہم نے مثبت پہلو لیتا ہے کہ باوجود ان بُرائیوں کے چھوڑ دینے کے ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے۔کہ ضرور اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرلیں گے۔قرآن مجید پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ان صفات کا بھی ذکر ہے کہ جس مرد و عورت میں وہ پائی جائیں۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ وہ ان سے محبت کرے گا۔وہ مندرجہ ذیل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (سورة آل عمران: 77) اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔تقویٰ کا مطلب ہے کہ انسان ہر اس کام سے پر ہیز کرے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہو۔ہر کام کرتے ہوئے خشیت الہی غالب رہے کہ کہیں میں اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کر رہا۔گویا تقویٰ پہلا زینہ ہے۔نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں ہیں۔جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں۔کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی رُوبہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 7 پھر فرماتے ہیں:۔اللہ کا خوف اسی میں ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا قول و فعل کہاں تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے۔پھر جب دیکھے کہ اس کا قول و فعل برابر نہیں تو سمجھ لے کہ مور د غضب الہی ہوگا۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 8 پھر اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا ایک اور طریق قرآن مجید میں یہ بیان ہوا ہے کہ