خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 514
514 حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالانہ 1952ء کے موقع پر تمام احباب جماعت کو خاص طور پر یہ دعا مانگنے کا ارشاد فرمایا تھا۔پس ہمیں چاہئے کہ جہاں اور دعا ئیں اپنی جسمانی اور روحانی ضروریات پوری کرنے کے لئے مانگیں وہاں اس دعا کا بھی التزام رکھیں۔تا ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی حقیقی محبت پیدا ہوا اور اپنے بچوں کو بھی یہ دعایا کروائیں۔وہ دعا یہ ہے:۔"اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبِّكَ وَحُبِّ مَنْ اَحَبَّكَ وَحُبِّ مَنْ يُقَرِّبُنِي إِلَيْكَ وَاجْعَلُ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔“ یعنی اے میرے مولا میرے دل میں اپنی اور ان لوگوں کی محبت پیدا کر دے جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور وہ محبت جو مجھے تجھے سے قریب کر کے اور میرے دل میں اپنی محبت کا ایسا سرور پیدا کر جو ٹھنڈے پانی کی لذت وسرور سے بھی بڑھ چڑھ کر ہو۔ان سب باتوں پر عمل کرنے کے باوجود ایک انسان یقینی طور پر یہ نہیں کہ سکتا کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے۔قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض صفات اور خصوصیات بیان فرمائی ہیں کہ جن میں وہ پائی جائیں اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے۔اور بعض بُرائیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جن میں وہ پائی جائیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت کو وہ کسی طور پر حاصل نہیں کر سکتے۔ان میں سے پہلی بُرائی یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ (سورة النساء: 149) اللہ تعالیٰ بُری بات کے اظہار کو پسند نہیں کرتا ہاں مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو وہ اس ظلم کا اظہار کر سکتا ہے۔معاشرہ میں اچھائیاں بھی نظر آتی ہیں اور بُرائیاں بھی۔کئی بُرائیاں اور گناہ ایسے ہوتے ہیں۔جو نا دانستہ کئے جاتے ہیں۔لیکن برملا ان بُرائیوں کا اظہار قوم میں سے گناہ کرنے کے حجاب کو دور کر دیتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَاَهْلَكَهُمُ (مسلم کتاب البر والصلة) جو یہ کہتا پھرے قوم میں یہ برائی ہے۔فلاں نقص پایا جاتا ہے۔فلاں شخص ایسا ہے اور فلاں ویسا۔اس کے چرچا کرنے کے نتیجہ میں اگر قوم میں وہ برائی پیدا ہو گئی تو اس کا گناہ اس شخص کے ذمہ ہوگا۔بُری بات کا کبھی چرچا نہیں کرنا چاہئے۔بُرائیوں کو ہوا نہیں دینی چاہئے۔ورنہ لوگ بے جھجک بُرائی کرنے لگ جاتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ۔(سورة البقرة: 191)