خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 512
512 احسانات کو ہر وقت چشم تصور کے سامنے لانے اور اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوسکتی ہے۔عقیدہ کی تصحیح کے بعد دوسرا قدم یہ ہے کہ نیکوں کی صحبت اختیار کی جائے۔صحبت کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ سے ملنے کی کتنی تڑپ ہی کیوں نہ ہو۔لیکن اگر وہ صحبت اختیار کرتا ہے بروں کی اور فاسقوں کی تو آہستہ آہستہ اس کے دل پر بھی زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اعمال نیک کے واسطے صحبت صادقین کا نصیب ہونا بہت ضروری ہے۔یہ خدا کی سنت ہے ورنہ اگر چاہتا تو آسمان سے قرآن یونہی بھی دیتا اور کوئی رسول نہ آتا۔مگر انسان کو عمل درآمد کیلئے نمونہ کی ضرورت ہے پس اگر وہ نمونہ نہ بھیجتارہتا تو حق مشتبہ ہو جاتا۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 129 اپنی ایک اور تقریر میں حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:۔تیسرا پہلو حصول نجات اور تقویٰ کا صادقوں کی معیت ہے۔جس کا حکم قرآن شریف میں ہے۔كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (سورة التوبه (119) یعنی اے ایمان والو تقویٰ اختیار کرو۔اور تقویٰ جب حاصل ہو سکتا ہے کہ صادقین کے ساتھ معیت اختیار کرو ( یعنی اکیلے نہ رہو۔کہ اس حالت میں شیطان کا داؤ انسان پر ہوتا ہے۔بلکہ صادقوں کی معیت اختیار کرو۔اور ان کی جمعیت میں رہو۔تا کہ اُن کے انوار و برکات کا پر تو تم پر پڑتا رہے اور خانہ قلب کی ہر ایک خس و خاشاک کو محبت الہی کی آگ سے جلا کر نور الہی سے بھر دے ملفوظات جلد چہارم صفحہ 207 حاشیہ نیک صحبت میں رہ کر محبت الہی کے تیسرے ذریعہ کا حصول ممکن ہوتا ہے۔یعنی معرفت میں ترقی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نیک اور کامل بندے اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہوتے ہیں۔ان کی صحبت اور ان کے نمونہ سے اللہ تعالیٰ کی صفات کی حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے جو ایمان میں ترقی کا موجب اور محبت الہی کو اپنے دل کی گہرائیوں میں پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: 22) تمہارے لئے محمد رسول اللہ کی ذات و اخلاق میں ایک کامل نمونہ موجود ہے۔وہ اخلاق اپنے اندر پیدا کر کے اللہ تعالیٰ کی معرفت کو حاصل کر سکو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع اور آپ کے نقش قدم پر چلنے سے ہی خدا مل سکتا ہے۔ایک ذرہ بھر بھی ادھر اُدھر نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریق سے ہی حاصل ہوسکتی ہے اور معرفت میں