خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 496 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 496

496 خاطر سادہ زندگی گزارے۔رسومات ترک کر دے۔اولا د کو وقف کرے۔ان کی دینی تربیت کرے تا قرآن ان کا اوڑھنا اور بچھونا ہو۔اگر ایسا نہیں تویا درکھیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ إِنْ كَانَ آبَاءُ كُمْ وَأَبْنَاءُ كُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ (التوبة: 24) یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ تمہارے بیٹے تمہارے بھائی تمہارے خاوند یا خاوندوں کی بیویاں تمہاری بُرادری اور تمہارے مال اور مکانات سب خدا اور اس کے رسول ﷺ اور خدا کی راہ میں قربان کر دینے سے زیادہ عزیز ہیں تو پھر اس دن کا انتظار کرو جب خدا اپنا حکم ظاہر کر دے۔میری عزیز بہنو! اس عہد بیعت جو تم نے اپنے خلیفہ کے ہاتھ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہوتے ہوئے باندھا تھا پورا کرو۔نہ جان کی پرواہ ہو نہ مال کی۔نہ اولاد کی پرواہ ہونہ عزت کی۔بس لگن ہو تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ سب کچھ قربان کر دیا جائے جو اس نے دیا ہے اس سے دائمی عزت ملے گی۔اسی سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوگی۔اور اسی سے صدیوں تک تمہارا نام عزت سے لیا جائے گا۔خدا کرے ہم میں سے ہر عورت صدق و اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والی ہو اور اس کی راہ میں وہ استقامت حاصل کرے جو تمام نفسانی جذبات پر غالب آجائے اس کا وجود فنا ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی زندگی کی تمام قو تیں صرف ہوں۔اپنی اولا دکو سچے اور مخلص احمدی بنانے کے لئے جن پر شیطان کبھی حملہ آوار نہ ہو سکے۔آمین اللہم آمین (الفضل 20 فروری 1968ء)