خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 494 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 494

494 اس کے ایمان میں اضافہ کا موجب ہوتی ہے اور اس کو وہ اعلیٰ مقام حاصل ہو جاتا ہے جسے تو کل کا مقام کہتے ہیں اور جسے سورہ انفال کی مذکورہ بالا آیات میں وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی سچے مومن وہ ہیں جو اپنے رب پر تو کل کرتے ہیں۔گویا یہ ساتویں عظیم خصوصیت ہے جو ایک مسلمان مرد یا عورت میں پیدا ہونی چاہئے اور اس کے ذریعہ اس کی اولاد میں۔وہ تدابیر تو ضرور اختیار کریں لیکن نتائج پیدا ہونے پر سر تسلیم خم کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی ہر رضا پر راضی ہو جائیں۔ایسے انسانوں میں سے ہوا و حرص کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے خدا کی خاطر ان کی زندگی ہوتی ہے۔ایک احمدی خاتون کو اپنے اندر یہ جذبہ اور خصوصیت پیدا کرنی چاہئے۔کمزور قسم کی عورتیں اپنے خاوندوں اور بیٹوں کے خدمت دین کے جذبہ میں بھی روک بن جاتی ہیں لیکن کامل تو کل رکھنے والی عورتوں کو یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہمارے خاوند واقف زندگی ہیں تو ہمارا گزارہ کیسے ہوگا۔بیٹوں کی زندگیاں وقف کیں تو یہ آسودہ زندگی کیسے گزاریں گے۔بلکہ ان صفات کی مالک خواتین اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل کرتی ہیں اور اس کی خاطر ہر قربانی دینے کو تیار۔دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار کر سادہ زندگیاں گزارنے والی بن جاتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وفادار دوست ہے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 9) کو جو خدا کی طرف پورے طور پر آگیا پھر خُدا اس کے ساتھ پوری وفا کرتا ہے۔ابتدائے اسلام سے اب تک ہزاروں دولت مند، کروڑ پتی، صناع و تا جر گزرے۔آج ان کے نام بھی کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ ان کی اولادیں بھی اپنے آبا و اجداد کے نام سے واقف نہیں لیکن وہ جنہوں نے اسلام کی خاطر جان، مال، عزت، وقت اور اولادکو قربان کیا آج ان کے نام لیتے ہوئے ہماری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں بے اختیار زبان اور دل سے نکلتا ہے اور آرزو پیدا ہوتی ہے کاش ہم بھی ان مقدس ہستیوں میں سے ہوتے۔اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل کے نتیجہ میں مزید خصوصیات یہ پیدا ہو جاتی ہیں جو قوم کے افراد کی اہم ترین ذمہ داریاں ہیں کہ وہ نمازوں کو قائم کرتے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو دیا ہوتا ہے اس میں سے خدا تعالیٰ کی خاطر خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔اقامت صلوة :- قرآن مجید نے اقامت الصلوۃ پر بہت زور دیا ہے۔جو روحانی نظام اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اس کی بنیادی اینٹ اقامت الصلوۃ ہے یعنی ایک امام کے پیچھے باجماعت نماز پڑھنی۔اقامت الصلوۃ اسلام کے اس نقطہ مرکزی کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اسلام کو ترقی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب سب مسلمان ایک امام کے تابع ہوں جس کی قیادت میں وہ روحانی اور جسمانی ہر طرح سے ترقی کریں۔جب تک مسلمانوں