خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 485 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 485

485 ور نہ خوف خدار کھنے والی خدا تعالیٰ کی مخلوق سے محبت کرنے والی ایک عورت کبھی دوسری عورت کو حقیر نہیں سمجھ سکتی۔غیبت کرنے سے ایک دوسرے پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے وہ ہمدردی جو ایک دوسرے سے ہونی چاہئے باقی نہیں رہتی۔جس کی وجہ سے قوم کی ترقی رک جاتی ہے اور کینہ عناد آ پس میں ایک دوسرے کے لئے دلوں میں پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنی ادنی خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہسے تو یہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔یہ سب زہریں ہیں۔تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے اور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحہ 19) تجسس کی عادت:۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ 1965ء کے موقع پر عورتوں میں تقریر فرماتے ہوئے انہیں نصیحت کی تھی کہ دوسری چیز جو ہمارے اوقات پر ڈاکہ ڈالتی ہے وہ تجسس کی عادت ہے بعض مرد اور عورتیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی عیب گیری کے لئے میٹریل اور مواد کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اور اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ دوسرے کا کوئی نقص ان کے علم میں آجائے۔۔۔اس مسئلہ کے متعلق نبی کریم ﷺ کا ایک بڑا سخت ارشاد ہے جو میں اپنی بہنوں کے سامنے اس وقت رکھنا چاہتا ہوں آپ اسے غور سے سنیں اور اسی وقت عہد کریں کہ آئندہ ہم کسی کے عیب کی تلاش نہیں کریں گے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ دیکھو میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ تم مسلمانوں کو تکلیف نہ دوان پر عیب نہ لگا ؤ اور نہ ان کی کمزوریوں کے پیچھے لگے رہو۔کیونکہ جو شخص بھی تم میں مسلمانوں کی کمزوریوں کی تلاش میں لگے گا اور ان کے عیوب کی ٹوہ میں لگے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا اور اس کو شرمندہ اور بدنام کرے گا خواہ اس نے یہ عیب اپنے گھر میں چھپ کے کیا ہو۔پس اگر ہم سے ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ستاری کا پردہ اس کے اوپر پڑا رہے اور اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو خدا تعالیٰ ظاہر نہ ہونے دے اور اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے اسے