خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 484
484 کوئی احمدی عورت غیبت نہ کرے:۔ایسے معاشرہ اور سوسائٹی کے قیام کے لئے جہاں صلح ہی صلح ہو اور کوئی فسادنہ ہو بہت ضروری ہے کہ کوئی احمدی عورت دوسری کی غیبت نہ کرے۔اس کے حالات کا تجسس نہ کرے اور کسی پر کوئی بہتان نہ لگائے۔کسی پر بدظنی نہ کرے۔یہی تعلیم قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يُكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ۔وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلاَ تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَ مَنْ لَّمْ يَتُبُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَه يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا جُتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ ا بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُو اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ۔(سورة الحجرات : 1312 ) (ترجمہ) اے مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے اسے حقیر سمجھ کر ہنسی مذاق نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کو حقیر سمجھ کر ان سے ہنسی ٹھٹھا کیا کریں ممکن ہے کہ وہ دوسری عورتیں ان سے بہتر ہوں اور نہ تم ایک دوسرے پر طعن کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے یاد کیا کرو کیونکہ ایمان کے بعد طاعت سے نکل جانا ایک بہت ہی بُرے نام کا مستحق بنا دیتا ہے (یعنی فاسق کا) اور جو بھی تو بہ نہ کرے وہ ظالم ہوگا۔اے ایمان والو! بہت سے گناہوں سے بچتے رہا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں اور تجس سے کام نہ کیا کرو اور تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کیا کریں۔کیا تم میں سے کوئی اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔(اور اگر تمہاری طرف یہ بات منسوب کی جائے ) تو تم اس کو نا پسند کرو گے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ بہت ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ آیات بتاتی ہیں کہ معاشرہ میں سے وہ بُرائیاں جو معاشرہ کا حصہ بن چکی ہیں اور عورتوں میں خصوصیت سے پائی جاتی ہیں تقوے کے نتیجہ میں دور ہو سکتی ہیں اور وہ بُرائیاں غیبت، بہتان لگانا، تجسس کی عادت ، بدظنی اور تکبر ہیں۔تکبر کے نتیجہ میں ایک عورت دوسری پر طعن کرتی یا بُرے ناموں سے پکارتی ہے۔