خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 32 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 32

32 کے احکام نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھ چکا تھا سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پردہ خواہ کسی طرح بھی کیا جائے۔اس کے ہوتے ہوئے کسی عورت کی شناخت ممکن نہ تھی۔پھر اسی حدیث کے یہ الفاظ کہ فَخَمْرُتُ وَجْهِيَ بِجِلْبَابِی یعنی میں نے صفوان کے الفاظ سنے تو میں نے فوراً اپنا چہرہ چادر سے ڈھانپ لیا۔اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ اسلامی پردہ میں چہرہ کا چھپانا ضروری ہے اگر اسلام چہرہ کو چھپانے کا حکم نہ دیتا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیوں منہ ڈھانکتیں۔اور کیوں یہ الفاظ فرماتیں پردہ کے احکام کی تفصیل میں جانے کے لئے ہمیں بہر حال یہی دیکھنا پڑے گا کہ جس زمانہ میں پردہ کے احکام نازل ہوئے اس زمانہ کی مستورات نے آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق قرآنی احکام کو کس طرح سمجھا۔اور کس طرح عمل کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت ایک فیصلہ کن روایت ہے آپ نے براہ راست آنحضرت ﷺ سے تربیت حاصل کی آپکا عمل عین قرآنی احکام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات کے مطابق تھا۔یہاں یہ بھی یا درکھنا ضروری ہے کہ جلبات کا لفظ عربی زبان میں دو پٹہ کے لئے نہیں آتا۔بلکہ اس کپڑے یا برقعہ کے لئے آتا ہے جو عورت زینت والے لباس کے اوپر اس لئے اوڑھے کہ اس کی زینت چھپ جائے۔اس لئے ضروری ہے کہ برقعہ -: ایسا ہو جوزینت چھپانے والا ہو نہ کہ ایک نئی زینت کو پیدا کرنے والا جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔صحابیات کے درخشنده کارنامے :۔غرض اسلامی پردہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کو قیدیوں کی طرح گھروں کی چار دیواری میں محصور رکھا جائے۔جس طرح آج کی بے پردگی انتہا پر جا پہنچی ہے اسی طرح آج سے کچھ عرصہ قبل کا سخت پردہ بھی اسلام کی تعلیم کے خلاف تھا۔اسلام افراط اور تفریط سے روکتا ہے۔اسلام اگر ایک طرف عورتوں اور مردوں کے نا واجب اختلاط کو روکتا ہے تو دوسری طرف وہ عورتوں کو جائز آزادی عطا کرتا ہے۔چنانچہ اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ پردہ کی پابندی کے باوجود صحابیات سفروں میں مردوں کے ساتھ جاتیں سواری کرتیں۔جنگوں میں حصہ لیتیں۔جنگوں میں مریضوں کو مرہم پٹی کرتیں پانی پلاتیں وغیرہ۔اسی طرح علمی میدان میں بھی وہ کسی سے کم نہ تھیں۔جو جو کام صحابیات نے پردہ کے ساتھ سرانجام دیئے۔اس کا عشر عشیر بھی آج کی عورتوں میں نظر نہیں آتا۔اور یہ دعویٰ ہے کہ ترقی کا زمانہ ہے اور پردہ ترقی کی راہ میں روک ہے۔اگر ترقی سے مراد مردوں سے آزادانہ خلا ملا۔مردوں کی مجالس میں شرکت ہے تو بے شک ایسی ترقی میں پردہ روک ہے لیکن اگر ترقی سے مراد اس مثالی معاشرہ کا پھر سے قیام ہے جو آنحضرت ﷺ کے ذریعہ قائم ہوا اور جس کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنے کے لئے