خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 470 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 470

470 بھی قرآن مجید کی تعلیم سے ناواقفی کی وجہ سے ہے۔ایک مسلمان خاتون اگر قرآن کے کسی حکم پر عمل نہیں کر رہی ہوتی تو اس کی وجہ اس کا عدم علم ہوتا ہے یہ مکن ہی نہیں کہ ایک عورت کو صاف طور پر ایک حکم کا علم ہو اور وہ پھر بھی اس سے انحراف کرے۔پس اپنی اولادوں اور نئی نسل کو قرآن سکھانے کی طرف پوری توجہ دیں۔تا جب یہ بڑے ہوں تو ان میں سے ہر ایک عالم قرآن ہو۔اور قرآن جاننے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تمام اخلاقی بیماریوں سے پاک ہو جائے۔موجودہ زمانہ میں تربیت کے لحاظ سے لجنہ اماءاللہ پر دو باتوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ایک بے پردگی کی روک تھام اور دوسرے اپنے معاشرہ کو رسومات اور بدعات سے پاک وصاف کرنا۔مغربیت کی نقل میں اور موجودہ آزادی کی رو میں بہہ کر بعض احمدی خواتین بھی بے پردگی کا شکار ہورہی ہیں۔پردہ کے متعلق صحیح قرآنی تعلیم۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاوی، اور حضرت مصلح موعود کے خطبات پردہ کے متعلق جماعت کی تمام خواتین اور موجودہ آزادی کے نشہ میں چور بچیوں اور ان کے ماں باپ تک پہنچا نالجنہ اماءاللہ ی نمائندہ خواتین کا فرض ہے۔اسی طرح رسومات کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ سال اجتماع کے موقع پر اور بعد میں بھی بعض خطبات میں خواتین کو توجہ دلائی تھی کہ وہ تمام غیر اسلامی رسوم کو ترک کریں۔ہمارے معاشرہ کی فضا سادہ اور تکلفات سے پاک صاف ہونی چاہئے۔اسی غرض سے حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید جاری فرمائی تھی کہ ہمارا کھانا، ہمارا لباس، ہمارے گھر ہماری ہر تقریب سادہ اور پر وقار ہونی چاہئے۔لین دین فضول رسمیں، بے جا مطالبات شادیوں کے وقت سسرال والوں کو جوڑے دینے وغیرہ سے اجتناب کرنا چاہئے۔لڑکے کے ماں باپ کو رشتہ کرتے وقت صاف صاف کہ دینا چاہیے کہ ہم کسی قسم کا مطالبہ نہیں کر ہے۔تالڑکی والوں کے دلوں سے بھی وہ خوف دور ہو جائے جو اس زمانہ میں ہر بچی کے ماں باپ کو اس کی شادی کے وقت ہوتا ہے کہ جہیز کم دیا۔سسرال والوں کو جوڑے نہ دیے تو ہماری بچی کی آئندہ زندگی اثر انداز ہوگی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے 23 جون 1967ء کو خطبہ جمعہ میں اعلان فرمایا تھا کہ اس وقت اصولی طور پر ہر گھرانہ کو بتادینا چاہتا ہوں کہ میں ہر گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بدرسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں۔اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا۔اور ہماری اصلاحی کوشش کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوگا۔وہ یہ