خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 468
468 حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے مگر یہ حالت بجز خدا تعالیٰ کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین۔یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو۔خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہوسکتا۔اس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے۔خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اس پر تو کل کرے اور اسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اُسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اسی کی یاد کو سمجھے۔اور اگر ابراہیم" کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنی عزیز اولاد کے ذبح کرنے کا حکم ہو یا اپنے تئیں آگ میں ڈالنے کے لئے اشارہ ہو تو ایسے سخت احکام کو بھی محبت کے جوش سے بجالائے۔اور رضا جوئی اپنے آقائے کریم میں اس حد تک کوشش کرے کہ اس کی اطاعت میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔یہ بہت تنگ دروازہ ہے اور یہ شربت بہت ہی تلخ شربت ہے۔تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ میں سے داخل ہوتے ہیں اور شربت کو پیتے ہیں۔" (روحانی خزائن جلد 22 حقیقۃ الوحی صفحہ 54-55) یہ مقام ہے جو ہماری جماعت کو حاصل کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی کامل عظمت۔اللہ تعالیٰ سے کامل محبت اس کی محبت اور اطاعت میں ہر سبھی کو خوشی سے برداشت کرنا۔اللہ تعالیٰ سے کامل محبت بغیر آنحضرت علی سے محبت اور آپ کی کامل فرمانبرداری اور قرآن مجید کے احکام پر چلے بغیر نہیں کی جاسکتی۔قرآن ہی وہ شمع نور ہے جو ہماری زندگیوں کو نور مجسم بنا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا بھی یہی مقصد تھا۔اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء بھی یہی کام کرتے چلے آرہے ہیں کہ قرآن کی تعلیم کو اس کی طرح رائج کیا جائے کہ ہر احمدی کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر بن جائے۔ہمارے دلوں پر قرآن کی حکومت ہو۔ہمارے گھروں میں قرآن کا چرچا ہو ہماری زبان پر بھی قرآن ہو اور ہمارے عمل بھی قرآن کے مطابق ہوں۔لیکن میری عزیز بہنو! کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم میں ابھی تک قرآن کی محبت اتنی نہیں پیدا ہوئی جو ہمیں ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لے جائے۔ہزاروں پھندے رسومات اور بدعتوں کے ابھی تک ہمارے گلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔منہ سے دعوئی اللہ تعالیٰ سے عشق کا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا۔حضرت مسیح موعود علیہ کی اطاعت کا قرآن کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کا۔اور عمل اس سے سراسر خلاف۔ہم اس وقت ایک ایسے دور میں سے گزر رہے ہیں کہ ساری دنیا کی نظریں ہماری طرف لگی ہوئی ہیں تعلیم کے لحاظ سے دنیا عیسائیت کے اصولوں سے بے زار ہو کر امن کی تلاش میں اسلام کی طرف جھک رہی ہے۔اور