خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 467
467 ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے غمخوار ہوئے اور نا شناسا ہوکر پھر آشناؤں کا سا ادب بجالائے۔خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔۔۔میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کیلئے مجھے حکم بناتا ہے۔اور میری راہ پر چلتا ہے۔اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آ گیا ہے۔“ روحانی خزائن جلد 5 آئینہ کمالات اسلام : 349-350 حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی کامل اطاعت کرتے ہوئے اپنی مرضی کو بکلی چھوڑنے سے ہی ہماری زندگیوں میں وہ عظیم الشان انقلاب پیدا ہوسکتا ہے۔جس انقلاب کے بعد دنیا ہمیں اپنا اُستاد تسلیم کر لینے کیلئے تیار ہو جس طرح کہ صحابہ کرام ، رسول اکرم ﷺ نے آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اپنے اندر پیدا کیا۔اور ان کے متعلق آپ نے فرمایا اصحابی کا النجوم بايهم اقتديتم اهتديتم ( تحفة الاذى جزء (10 صفحه (196) کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کو بھی ان میں سے اپنی منزل کا نشان قرار دے کر ان کے پیچھے چل پڑو گے۔اپنی منزل مقصود پالو گے۔آج ضرورت ہے کہ آپ بھی آنے والی نسلوں کیلئے درخشاں ستارے بنیں۔جن کے نقش قدم پر چل کر آئندہ نسلیں اور نئے اسلام قبول کرنے والے اپنی منزل کی راہ بنا سکیں۔لیکن یہ انقلاب عظیم نہ بغیر عظیم الشان قربانیوں کے پیدا ہو سکتا ہے اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی کامل اطاعت کے بغیر ہوسکتا ہے۔قربانیوں کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔جب کہ انسان ایک طرف اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو اس کے احکام کا پورا پابند ہو۔اس کے وعدوں پر کامل یقین ہو اور اس کی راہ میں ہر تلخی اُٹھانے کو تیار ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔”انسان خدا کی پرستش کا دعوی کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہوسکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پر ستار الٹی کہلا سکتے ہیں؟ بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے۔اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزشِ محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو۔اور ہر ایک خوف اسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اسی کی درد میں لذت ہو اور اسی کی خلوت میں راحت ہو۔اور اس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی