خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 466
466 کہ صلیب جلد سے جلد پاش پاش ہو اور توحید کا جلوہ دنیا میں پھیلے وہ جلد سے جلد اس کی تعمیر میں حصہ لیں۔جنہوں نے وعدہ تو کیا ہوا ہے لیکن ابھی تک ادا نہیں کر سکیں۔وہ اس کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہوں۔پونے تین سال کے عرصہ میں سینکڑوں بچیاں جوان ہوئیں۔سینکڑوں عورت ایسی ہوگی جو تحریک کے آغاز میں چندہ دینے کی حیثیت نہ رکھتی ہوگی۔لیکن اب دے سکتی ہیں۔ان سب کو اس میں شمولیت کی طرف توجہ دلاتی ہوں۔وہ اس میں شامل ہوں اور اپنے مقدس امام حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے حصہ پائیں۔میری عزیز بہنو! یہ بھی یادر ہے کہ صرف مالی قربانی ہی دینا ہمارا مقصد نہیں۔خوش نہیں ہو جانا چاہیے کہ ہم نے اسلام کی خاطر مالی قربانیاں دی ہیں اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک موت کا مطالبہ کر رہا ہے۔موت اپنے جذبات کی موت اپنی اولادوں کی موت اپنی خواہشات کی اور موت رسم و رواج کی جب تک ہم اپنے ہاتھوں سے ان سب پر چھری نہیں پھیریں گی۔اس نئے آسمان اور نئی زمین کی تعمیر میں حصہ نہیں لے سکتیں جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ رکھی جا چکی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تیرہ سوسال کے بعد اسلام کو دوبارہ ترقی دینے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔تا پھر سے دنیا میں قرآنی معاشرہ قائم ہو۔اور جس انقلاب کا نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے ذریعہ دنیا نے دیکھا تھا۔اس کا نظارہ پھر ایک بار دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابہ اور صحابیات نے آپ کو مانا اور قربانیوں کا ایک ایسا نمونہ دکھایا۔جس کی مثال قرونِ اولی کے صحابہ اور صحابیات کے سوا تاریخ عالم میں کہیں نظر نہیں آتی۔انہوں نے وطن چھوڑے جانیں قربان کیں، مال اور جائدادیں سلسلہ کی خاطر وقف کر دیں۔غرض سب کچھ آپ کے قدموں پر نچھاور کر دیا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:۔کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزار نشان دیکھ لئے ہیں۔سو یہی میری جماعت ہے۔اور میرے