خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 465
465 جات اور 86098 کی مزید وصولی کی ضرورت ہے۔رقم تو انشاء اللہ پوری ہوگی اور ضرور ہوگی۔لیکن جو لطف اور مزہ اپنے وعدہ کو جلد سے جلد پورا کرنے میں ہے۔وہ دیر سے پورا کرنے میں نہیں۔ہمیں پوری تو جہ محنت کوشش اور عزم کے ساتھ اس رقم کو نہایت قلیل عرصہ میں ادا کر دینا چاہئے۔بیت نصرت جہاں کی تحریک پر جو دسمبر 1965ء میں کی گئی تھی۔پونے تین سال کا عرصہ گذر رہا ہے۔ایک زندہ جماعت کی خواہش کیلئے جس کی ہر عورت اور بچی اسلام کیلئے قربانی کرنے کا جذبہ رکھتی ہو۔بقیہ رقم کا چند ماہ میں پورا کر دینا قطعاً مشکل نہیں۔صرف ضرورت ہے ارادہ کی۔ضرورت ہے اپنے ذاتی اخراجات اور ضروریات پر سلسلہ اور اسلام کی ضرورت کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے اس تڑپ کو دل میں پیدا کرنے کی کہ جلد از جلد احمدیت پھیلے۔جلد از جلد اسلام کو وہ غلبہ حاصل ہو جو آخری زمانہ میں مقدر ہے جلد از جلد دنیا انسانیت کے نجات دہندہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مان جائے۔اور ایک خدا کی خدائی میں داخل ہو جائے۔مبارک ہیں وہ ہیں اور بچیاں جنہوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔اس کیلئے قربانیاں کیں۔اپنا مال اور اپنے زیورات دیے۔انہوں نے حضرت مصلح موعود کی دعاؤں سے بھی حصہ پایا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں سے بھی برکت پائی۔جنہوں نے افتتاح کے وقت دعا فرمائی تھی۔”اے خدا! میری اس عاجزانہ دعا کوسن۔ہر عمر کی احمدی مستورات نے فدائیت کے جذبہ کے ساتھ یہ مالی قربانی پیش کی ہے۔اور تیرے لئے دنیا کے اس حصہ میں ایک گھر تعمیر کیا ہے تا کہ اس سرزمین میں تیری عزت تیرا جلال اور تیری وحدانیت قائم ہو۔اے ہمارے محبوب آقا! اپنے خاص فضل سے اس حقیر کو شرف قبولیت بخش اور اپنی قدرت اور طاقت کی تجلیات اور بنی نوع انسان کیلئے محبت سے بھرے ہوئے نشانوں کے ذریعہ اپنے چہرہ کا جلال ظاہر فرما “ (الفضل 11 اگست 1967 ء ) جن بہنوں اور بچیوں کو کسی مجبوری کے باعث ابھی تک اس تحریک میں حصہ لینے کی توفیق نہیں ملی تھی۔ان کیلئے اب بھی وقت ہے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔تاکہ ساری دنیا کی احمدی خواتین میں سے ایک بھی ایسی نہ رہ جائے جس کا اس میں حصہ نہ ہو۔پس میری عزیز بہنوں اور بچیو! جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔جن کے دلوں میں اسلام کی تبلیغ کا جوش ہے جن کو حضرت مصلح موعود سے محبت کا دعوی تھا۔جو چاہتی ہیں