خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 458 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 458

458 خد اتعالیٰ کا کلام یوں ہی آسمان پر سے کبھی نازل نہیں ہوا بلکہ اس تلوار کو چلانے والا بہادر ہمیشہ ساتھ آیا ہے جو اس تلوار کا اصل جو ہر شناس ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 18 نزول مسیح صفحه 469) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کی طرف وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: 53) میں اشارہ فرمایا ہے۔جس طرح جنگ میں اگر اسلحہ نہ ہو تو لڑنے والا کچھ نہیں کر سکتا اسلحہ ہو اور اس کو استعمال کرنا نہ آتا ہو تب بھی فائدہ نہیں قرآن کریم کے ذریعے جہاد میں فتح تبھی ہوگی جب قرآنی دلائل کا اسلحہ خانہ بھی ہو اور جنگ کا جرنیل بھی جو سب دلائل کو جانتا ہو۔ہمارے پاس قرآنی دلائل کا اسلحہ خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی تفاسیر میں کثرت سے موجود ہے۔شرط یہ ہے کہ ایک جانباز سپاہی کی طرح روحانی گولہ بارود کے استعمال کی واقفیت ہو۔روحانی تلوار اور بندوق چلانی آتی ہو۔روحانی ٹینک استعمال کرنے آتے ہوں۔اور ساتھ ہی وہ عزم اور وہ روح ہم میں پیدا ہو جائے جو ایک سپاہی کی میدان جنگ میں جاتے ہوئے ہوتی ہے جو اس یقین کے ساتھ جاتا ہے کہ یا مرجائے گا یا فتح پا کر آئے گا اور پھر اپنے جرنیل یعنی حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کامل اطاعت ہو اور آپ کی ہدایات کی روشنی میں علوم قرآن سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔اس کلاس کے افتتاح کے وقت حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔" جس مقصد کے لئے یہ کلاس جاری کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس مقصد کو پہچانیں جو زندگی کا مقصد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حاصل کرنا۔پہلی امتوں کے پاس وہ ذرائع نہیں تھے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کئے ہیں اور وہ مقصد اس کمال کے ساتھ اور اس رنگ میں حاصل نہیں کر سکتے تھے جس رنگ میں اور جس کمال کے ساتھ حاصل کرنا ہمارے لئے ممکن ہے اگر چاہیں۔اگر نہ چاہیں تو خدا کا غضب ہم پر بھڑک سکتا ہے اس سے زیادہ جو پہلی امتوں پر بھڑ کا۔“ پھر آپ نے فرمایا تھا اسلام بڑے زور سے ہمیں بتاتا ہے کہ نجات معرفت کے بغیر ممکن نہیں۔یعنی اللہ کی پہچان کے بغیر ہم اس تک نہیں پہنچ سکتے اور معرفت کے سارے اصول قرآن میں پائے جاتے ہیں اس کا دعوی ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْت عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائده: 4) پھر اس تقریر کے تسلسل میں آپ نے فرمایا تھا۔