خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 457 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 457

457 آپ کوشش کریں کہ یہاں سے واپس جا کر بھی آپ کی توجہ قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے کی طرف رہے جتنا یہاں آپ نے پڑھا ہے یہ تو بطور بنیاد کے ہے اس لئے تا کہ دینی علم کی چاشنی کا مزہ آپ چکھ لیں اور یہاں سے جا کر بھی آپ اس کو سیکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔اصل علم دین کا علم ہی ہے۔اگر یہ نہ سیکھا اور دینوی علم کے حاصل کرنے میں زندگی گزار دی تو سمجھیں کہ آپ نے اپنی عمر ضائع کی۔ہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم بھی سیکھے جائیں تو پھر سونے پر سہا گہ۔تمام علوم کا اصل منبع قرآن ہے اس لئے ساری کوششیں تمام صلاحیتیں خرچ کر دیں قرآن کا ترجمہ سیکھنے اور اس کے معارف حاصل کرنے میں۔یہ خیال جو شیطان انسانی دماغوں میں ڈالتا ہے کہ قرآن کا ترجمہ سیکھنا مشکل ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی ہے فرمایا کہ ہم نے قرآن کو بنایا ہی آسان ہے جو اس کو مشکل قرار دیتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے قول کی نعوذ باللہ تردید کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سمجھنا خود انسان پر آسان کر دیتا ہے۔شرط ہے محنت اور کوشش کی صدق دل کے ساتھ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا العنكبوت : 70 جو لوگ ہم تک پہنچنے کی کوشش کریں گے ہم ان کی راہیں خود استوار کریں گے۔راستہ کی روکیں خود دور کرتے چلے جائیں گے۔دنیاوی علوم کی خاطر کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔سولہ سال لگا تار پڑھنے کے بعد کہیں ایم اے کی ڈگری ملتی ہے۔تو کیا آپ سمجھ سکتی ہیں کہ ایک ماہ صرف یہاں رہ کر قرآن مجید کی پوری طرح سمجھ آجائے گی۔کوشش کرتی رہیں اسی طرح جس طرح دنیاوی امتحانات پاس کرنے کے لئے کی تھی یا کر رہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآنی معارف آپ پر کھولے پھر انشاء اللہ وہی چیز جو آج مشکل معلوم ہوتی ہے آسان ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيهِ الانشقاق : 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی ملاقات بڑی محنت بڑی کاوش سے حاصل ہوتی ہے اور قرآن سب سے بڑا ذریعہ ہے معرفت الہی حاصل کرنے کا۔قرآن میں ہی وہ طریقے بتائے گئے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا قرب حاصل ہوتا ہے لیکن ایک بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ قرآن سیکھنے کا بہت بڑا ذریعہ اس ہستی سے روحانی تعلق کا قائم کرنا ہے جس کو اللہ تعالیٰ قرآن سکھانے کے لئے دنیا میں کھڑا کرے۔يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے يُرَتِيهِم بھی فرمایا ہے اور تزکیہ نفس صرف نبی کی قوت قدسیہ یا ان کے خلفاء کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب نزول مسیح میں لکھا ہے۔