خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 456 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 456

456 علوم اس کے مقابلہ میں بیچ میں دنیا کی تمام تحقیقا تیں اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں اور دنیا کی تمام سائنس اس کے مقابلہ میں اتنی حقیقت بھی نہیں رکھتی جتنی سورج کے مقابلہ میں ایک کرم شب تاب حقیقت رکھتا ہے دنیا کے علوم قرآن کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں۔قرآن ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور وہ غیر محدود معارف و حقائق کا حامل ہے یہ قرآن جیسے پہلے لوگوں کے لئے کھلا تھا اسی طرح آج ہمارے لئے کھلا ہے۔(سیر روحانی حصہ اول صفحہ 95) حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشادات:۔یہی وہ نصب العین ہے جو احمد یہ جماعت کے مرد اور خواتین کا ہونا چاہئے۔اور یہی وہ کام ہے جسے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مسند خلافت پر قدم رکھتے ہی شروع فرما دیا تھا۔آپ نے بار بار خطبات دیئے ہیں کہ جماعت میں کوئی ایک بچہ عورت اور مرد ایسا نہیں ہونا چاہئے جو ناظرہ نہ جانتا ہو اور پھر دوسرا قدم ہمارا یہ ہونا چاہئے کہ ہر مرد اور عورت قرآن مجید کا ترجمہ جانتا ہو۔جب تک قرآن مجید کے خزانہ کا صحیح عل نہ ہوگا ہم اسے دوسروں میں کیسے تقسیم کر سکتے ہیں۔اسلام کا جھنڈا بلند ہوگا قرآن کی بادشاہت کو پھر سے قائم کرنے سے ، اور قرآن کی بادشاہت قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص ترجمہ جانتا ہواور قرآن کے مطابق زندگی بسر کرنے والا ہو۔ابھی ایک حالیہ خطبہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی اور فرمایا تھا۔میں نے جماعت کی توجہ اس طرف پھیری تھی اور تلقین کی تھی کہ وہ قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے کی طرف بہت توجہ کریں جماعت کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ احمدیت کی ترقی اور اسلام کا غلبہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم خود کو بھی اور اپنے ماحول کو بھی قرآن کریم کے انوار سے منور کریں اور منور رکھیں۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو ایک طرف ہم اپنے نفسوں پر اور اپنی نسلوں پر ظلم کر رہے ہوں گے دوسری طرف ہم عملاً اس بات میں شیطان کے محمد بن رہے ہوں گے کہ اسلام کے غلبہ میں التو اپڑ جائے۔پس یہ ایک نہایت اہم فریضہ ہے جسے ہم میں سے ہر ایک نے ادا کرنا ہے۔“ (الفضل 18 جولائی 67ء) احمدی مستورات سے خطاب:۔میری عزیز بہنو اور بچیو! جنہوں نے ایک ماہ محض قرآن مجید اور علوم دبینہ سیکھنے کے لئے بسر کیا ہے۔