خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 451 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 451

451 بس لگن تھی خدا کے کلام کو سیکھنے اور اس میں سے موتی نکالنے کی۔آنحضرت ﷺ کی صحبت میں آپ سے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔یہی حال باقی صحابیات کا تھا۔آج دنیا میں جس قدر علوم رائج ہو چکے ہیں ان تمام کی بنا مسلمانوں نے ڈالی اور قرآن واحادیث کی روشنی میں ڈالی۔قرآن کریم کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق ڈالی۔لیکن جب مسلمانوں نے قرآن مجید پڑھنا چھوڑ دیا۔اس پر غور وتدبر کرنا چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی بیان فرمودہ حدیث کے مطابق ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ ساری دنیا کی نظروں میں ذلیل ہوئے۔دین و دنیا دونوں ہاتھ سے گئے اور یہ نتیجہ تھا قرآن کو چھوڑنے کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں پہ تب ادبار آیا کہ جب تعلیم قرآں کو بھلایا قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ الہی:۔صل الله دنیا نے پوری کوشش کی کہ قرآن کا نام دنیا سے مٹ جائے اور کوئی حربہ ایسا نہ چھوڑا جس کے ذریعہ اس کا نام ہی دنیا سے مٹانے کی کوشش نہ کی لیکن اللہ تعالیٰ جورب العالمین ہے جس کا قرآن کی حفاظت کا وعدہ تھا اس نے ایسے انتظامات فرمائے کہ قرآن اپنی ظاہری شکل وصورت میں اسی طرح محفوظ ہے جس طرح آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا تھا جبکہ دوسری الہامی کتب میں تحرف و تبدل ہو چکا ہے۔قرآن پر بڑے سے بڑا اعتراض کرنے والا بھی اس کی ظاہری حفاظت کو تسلیم کرتا ہے۔پھر معنوی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے اور محبوب بندوں کا ایک سلسلہ بھجوانا شروع کیا جو دنیا کو قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہے جس کے نتیجہ میں ہر زمانہ میں ایک جماعت عامل قرآن پیدا ہوتی رہی اور آخری زمانہ میں خود آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کا بھی یہ فرض قرار دیا کہ قرآن مجید لوگوں کو سکھایا جائے۔جماعت احمد یہ اور قرآن مجید :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا ایک ضروری مقصد بھی يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ تھا یعنی دنیا کو پھر سے قرآن کی طرف بلانا۔قرآنی علوم کو دنیا کے ذہن نشین کرنا۔قرآن کی تعلیم کو پھر سے اس طرح رائج کرنا کہ ہر شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہا ما بھی فرمایا کہ