خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 450
450 اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعہ بعض قوموں کو بلند کرے گا ترقی دے گا اور بعض کو تنزل کے گڑھے میں گرادے گا۔یعنی جو لوگ قرآن مجید کے احکام پر عمل کریں گے ترقی پائیں گے دینی بھی اور دینوی بھی۔جو عمل کرنا چھوڑ دیں گے وہ ذلت کے گڑھے میں جاگریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے: ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جولوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔“ (روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحه 13) ایک اور حدیث ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِّنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ (ترمذی کتاب فضائل القرآن ) جس شخص کے دل میں قرآن میں سے کچھ بھی نہ ہو وہ دل یا وہ شخص ویران گھر کی مانند ہے۔ایک اور حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُوْنَهُ بَيْنَهُمُ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ۔(صحیح المسلم كتاب الذكر والدعاء) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں قرآن مجید ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں اس کا درس دیتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت اور رحمت نازل ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے فرشتے اپنے پروں کے نیچے ان کو لے لیتے ہیں۔یہ مبارک اقوال رسول پاک ﷺ قرآن مجید کو خود پڑھنے ان پر غور کرنے اس کے معارف حاصل کرنے خود پڑھ کر دوسروں کو قرآن کی تعلیم دینے اور اپنے دلوں کو نور قرآن سے منور رکھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے ارشاد مبارک کے مطابق قوموں کی ترقی قرآن پر عمل کرنے سے وابستہ ہے اور عمل اس وقت ہو سکتا ہے جب قوم کا ایک ایک فرد قرآن کے ایک ایک لفظ کو سمجھنے والا ہو۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس گر کو اسلام لاتے ہی سمجھ لیا اور اس پر عمل کیا اور تھوڑے سے عرصہ میں ہی ساری دنیا پر چھا گئے۔یہاں تک کہ ان کی عورتیں بھی قرآن مجید کے علوم سے اچھی طرح آشنا تھیں۔حضرت عائشہ کے متعلق تو خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آدھا دین عائشہ سے سیکھو۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد امہات المومنین کے پاس صحابہ کرام مسائل پوچھنے اور آیات کا حل تلاش کرنے آیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ بھی ایک عورت تھیں ایسی ہی جیسی کہ آج کل کی عورتیں۔کوئی کالج نہ پڑھا تھا کوئی یو نیورسٹی نہ تھی۔