خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 449
449 کانٹوں والی زمین پر چلنے والا اختیار کرتا ہے یعنی وہ کانٹوں سے خوب بچتا ہے اور تو چھوٹے گناہ کو حقیر نہ سمجھ کیونکہ پہاڑ کنگروں سے ہی بنے ہوتے ہیں۔( منقول از تفسیر کبیر جلد اصفی ۷۳) غرض آنحضرت ﷺ کی تمام زندگی ان چار غرضوں کے ارد گرد گھومتی ہے جو مذکورہ بالا آیت میں بیان ہوئے ہیں جن میں ایک غرض يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَاب ہے۔آپ ﷺ نے دنیا کو وہ کتاب دی جس کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ہمیشہ محفوظ رہے گی جو ہر لحاظ سے مکمل ہے ہر قسم کی تعلیم اس میں ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بھی ، ملائکہ کے متعلق بھی ، انسان کی انسانیت کے متعلق بھی ، نیکی بدی کے متعلق بھی ، اخلاقیات کے متعلق بھی ، روحانیت کے متعلق بھی ، اللہ تعالیٰ کے حقوق کے متعلق بھی ، انسانوں کے حقوق کے متعلق بھی ، اور آخرت کے متعلق بھی۔نہ روحانیت کا کوئی علم ہے جس پر سیر کن بحث نہ ہو نہ دنیا کو کوئی علم ہے جس کا منبع قرآن مجید نہ ہو۔قرآن مجید پڑھنے کی اہمیت احادیث نبویہ کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کی اپنی زندگی حضرت عائشہ کے قول کانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ کے مطابق قرآن مجید کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔قرآن مجید پڑھنے اور پڑھانے کی اہمیت آپ ﷺ کی متعدد احادیث سے ثابت ہوتی ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اقْرَوُا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لَاَصْحَابه۔(مسند احمد بن حنبل) فرمایا تم قرآن کریم پڑھا کرو اس لئے کہ یہ ( یعنی قرآن ) قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لئے شفیع بن کر آئے گا یعنی قرآن مجید ہمارے اعمال پر گواہی دے گا کہ اس دنیا میں جو کتاب ہمیں سیدھی راہ دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھیجی تھی اس کو ہم نے پڑھا۔غور کیا اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی یا اس کی خلاف ورزی کی۔اسی طرح حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا كُم مِّنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ۔(بخاری کتاب الفضائل القرآن) تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن کو خود پڑھا اس کے مطالب سمجھے اور پھر دوسروں کو پڑھایا کتنی خواتین ہیں ہماری جماعت میں جو اس پر عمل کر رہی ہیں۔اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ اخَرِينَ۔(مسلم کتاب صلاة المسافرين و قصرها)