خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 443 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 443

443 ایسی بنالو جو نمونہ ہوں دنیا کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تمہارے لئے نمونہ موجود ہے۔جس کو دیکھ کر تم نے اپنی زندگیاں دنیا کے لئے نمونہ بنانی ہیں۔پس ہماری مساجد بھی ہدایت کا ذریعہ اس وقت کامل طور پر بن سکتی ہیں۔جب ہمارے وجود دوسروں کیلئے گالنجوم ثابت ہوں تا کہ ہمارے کردار ہماری زندگی۔ہمارے علم قرآن ، ہمارے اخلاق ہمارے لین دین ہمارے اٹھنے بیٹھنے غرض ہر چیز کو دیکھ کر دنیا اسلام کی طرف کھنچے اور مان جائے کہ یہ عظیم الشان انقلاب ان میں صرف اور صرف احمدیت کے ذریعہ سے پیدا ہوا ہے اور اس زمانہ میں احمدیت ہی حقیقی اسلام اور نجات کا ذریعہ ہے۔هدی کے معنے شریعت اور فہم شریعت کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی شریعت کے ہر حکم سے ہمیں مکمل واقفیت ہو اور اس پر ہمارا عمل ہو۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کس خوبصورتی سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تھا کہ کان خلقہ القرآن آپ کے اخلاق اور اوصاف کریمانہ کے متعلق میں کیا بتاؤں؟ قرآن پڑھ لوآپ کی زندگی چتا پھرتا نمونہ تھی۔قرآن مجید کا ہی روح یہ جذ بہ آج ہمارے اندر بھی پیدا ہو جائے تو ہماری مسجدوں کے قیام کی غرض۔۔۔للعالمین بھی ہمارے ذریعہ پوری ہو سکتی ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی عالمین کو ہدایت کی طرف دعوت دینے کے لئے یورپ کا سفر اختیار فرمایا ہے اور مسجد کا افتتاح بھی اسی دعوت کی ایک عظیم الشان کڑی ہے۔جیسا کہ آپ نے جاتے ہوئے فرمایا ہے کہ میری بہنوں کا مجھ پر حق ہے کہ وہ میرے سفر کی کامیابی کے لئے دعا فرمائیں۔آپ سب کا فرض ہے کہ دعا کرتی رہیں اللہ تعالیٰ آپ کے سفر کو بہت بہت مبارک فرمائے۔پ فتح و ظفر کا ڈنکا بجاتے ہوئے تمام دنیا کو ہدایت کا پیغام دے کر تشریف لائیں۔آمین۔دنیا کو ہدایت کی طرف بلانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان خود ہدایت یافتہ ہو۔اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَآتَى الزَّكُوةَ وَلَمُ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ اَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ۔(التوبة: 18) اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اور نمازوں کو قائم