خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 442
442 کس قسم کی قضا و قدرتمہارے لئے لائے گا؟ پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحه 68) مساجد کے قیام کی تیسری غرض مذکورہ بالا آیت میں ھدی للعالمین بیان فرمائی گئی ہے کہ مسجد کا قیام اس غرض سے ہو کہ وہ سب دنیا کیلئے ہدایت کا باعث بنیں۔اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے اس کی صفت ربوبیت کے تقاضا کے ماتحت دنیا کی ہر قوم کی ہدایت کے لئے اس کی طرف سے انبیاء آئے اور پھر سب دنیا کی ہدایت کے لئے آنحضرت ی تشریف لائے آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (انبياء : 108) اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔آپ کی رحمت سے دنیا کی ہر قوم نے ہر زمانہ نے۔ہر طبقہ نے انسانوں نے بھی اور حیوانوں نے بھی حصہ پایا۔آپ کی رحمت کسی خاص زمانہ یا طبقہ کے لئے نہیں تھی آپ کی تعلیم کسی خاص ملک کے لئے نہیں تھی۔آپ کی تعلیم کسی خاص قوم کے لئے نہیں تھی۔آپ کی رحمت ہمیشہ کے لئے تھی۔آپ کی قوت قدسیہ آج بھی زندہ ہے اور ہم نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر آپ کی رحمت سے حصہ پایا ہے۔پس جس طرح اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے گھر ساری دنیا کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہیں۔اسی لئے پانچوں وقت مؤذن مسجد سے آواز بلند کرتا ہے حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح۔آؤ نماز پڑھنے کے لئے مساجد میں آؤ اور کامیابی کے چشمہ کی طرف دوڑ و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے قرآن مجید کے احکام پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو ھدی للعالمین بنا دیا جس کی گواہی خود حضور علیہ السلام نے دی۔آپ نے فرمایا اَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ فَبِلَيْهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ (تحفة الاحوذى جزء 10 ص 196 کہ میرے صحابہ تو ستاروں کی طرح ہیں۔جس ستارہ کو اپنی منزل کا نشان قرار دیکر تم اس کے پیچھے چل پڑو گے اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تم منزل مقصود کو پالو گے۔غرض صحابہ کا وجود بھی هُدًى لِلْعَالَمِین تھا۔ان کی ساری زندگیاں دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنے۔بُرائی سے روکنے اور خود کو دنیا کے لئے نمونہ بنانے میں گزریں اور یہ غیر لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ اُسْوَةٌ حَسَنة کی ہے۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی پیروی کرتے ہوئے تم خود اپنی زندگیاں