خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 435
435 اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتْقَاكُمُ (الحجرات: (14) کے مطابق ہو کہ سب برابر ہیں۔اگر کوئی قابل احترام تعظیم ہے تو وہ جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔بیت اللہ کے قیام کی اس غرض کو آنحضرت ﷺ کی بعثت نے پورا کیا آپ نے اعلان فرما دیا۔اِنِّی رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمُ جَمِيعًا۔میں کسی خاص قوم کے لئے نہیں آیا جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا تھا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کے لئے آیا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جتنے انبیاء آئے سب اپنی اپنی قوموں اور اپنے اپنے ملکوں کے لئے تھے۔یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے جس نے اعلان فرمایا کہ میں ساری دنیا کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔شمال کے رہنے والوں کے لئے بھی جنوب کے رہنے والوں کے لئے بھی مشرق کے رہنے والوں کے بھی اور مغرب کے رہنے والوں کے لئے بھی۔آپ کی بعثت کے بعد اب ساری دنیا کی نجات آپ کے ساتھ وابستہ ہونے میں ہے اور آپ کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں داخل ہونے کے ساتھ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل کامل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تمام انبیاء کا بر وز بنا کر بھیجا ہے جیسا کہ اس نے آپ کو اپنے الہام میں فرمایا جَرِى اللهِ فِى حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ اس لئے آپ بھی ساری دنیا اور دنیا کے ہر انسان کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور ہر انسان تک اسلام کا پیغام پہنچانا آپ کی جماعت کا فرض ہے۔ہماری غرض مساجد کی تعمیر سے بھی اسی وقت پوری ہو سکتی ہے جبکہ ہماری جماعت کے ذریعہ کامل مساوات قائم ہو۔ہر شخص دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے۔کوئی شخص کسی دوسرے کو دُکھ نہ پہنچائے۔سب ایک دوسرے کو اپنے جیسا سمجھیں۔کوئی کسی کو حقارت سے نہ دیکھے۔کوئی ایک دوسرے سے اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھے۔معاشرہ میں مکمل امن ہو۔غیبت پھلی دُکھ پہنچانے سے باز رہا جائے۔اگر ایسا معاشرہ قائم ہو جائے تو مساجد کی تعمیر کی غرض پوری ہو جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے ذریعہ یہ غرض پوری ہوئی اور اخوت کی بنیادوں پر ایک عالمگیر برادری کی بنیاد ڈالی گئی۔غلامی مٹادی گئی۔تمام لوگوں کا ایک دوسرے سے یکساں سلوک تھا۔عورتوں کا احترام تھا۔غرباء سے حُسن سلوک تھا۔لوگ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر غرباء کی تکالیف کو دور کرتے تھے۔کوئی دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ دیتا تھا۔نہ ہاتھ سے نہ زبان سے