خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 434 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 434

434 مسجد نصرت جہاں کو پن بھیگن کے افتتاح کے موقع پر ربوہ میں احمدی مستورات کے جلسہ میں حضرت سیدہ ام متین صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی اہم تقریر مؤرخہ 21 جولائی 1967ء بروز جمعتہ المبارک جبکہ مسجد کو پن بیکن کا افتتاح ہورہا تھا مستورات کا جلسہ لجنہ ماء اللہ کے ہال میں اجتماعی دعا کی غرض سے منعقد ہوا۔بسم الله الرحمن الرحيم اعوذ بالله من الشيطن الرجيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود إِنَّ أَوّلَ بيتٍ وُضِعَ ِللنَّاسِ لَلَّذِى بَبِكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَلَمِيْن۔(آل عمران:97) اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے فائدہ کے لئے بنایا گیا تھا وہ ہے جو مکہ میں ہے وہ تمام جہانوں کے لئے برکت والا مقام اور موجب ہدایت ہے۔اس آیت میں مسجد کو گھر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔خانہ کعبہ سب سے پہلی مسجد یا اللہ تعالیٰ کا گھر تھا اور دنیا میں جس قدر مساجد بنائی گئی ہیں یا بنائی جائیں گئی وہ سب اس مسجد کے ظل کے طور پر ہوں گی اور انہیں اغراض کو پورا کرنے کے لئے بنائی جائیں گی۔جو بیت اللہ کی تعمیر کے مد نظر تھیں اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کی تین بڑی غرضیں تھیں باقی سب غرضیں انہی تین غرضوں کے ارد گرد گھومتی ہیں۔پہلی غرض : ان اوّل بیت وُضِعَ للنَّاسِ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ خدا کا گھر سب کے لئے ہے اس میں داخلہ کی کوئی شرط نہیں بادشاہ ہو یا گدا امیر ہو یا فقیر بوڑھا ہویا بچہ مرد ہو یا عورت سب کی عبادت کے لئے مسجد تعمیر کی جاتی ہے۔گویا دوسرے الفاظ میں مسجد کا قیام ایک عظیم الشان برادری کے قیام کے لئے ایک ایسے معاشرہ اور تمدن کے قائم کرنے کے لئے ہوتا ہے جس میں مساوات ہو۔جہاں کوئی اس لئے بڑا نہ ہو کہ اس کے پاس روپیہ زیادہ ہے جہاں کوئی اس لئے بڑا نہ ہو کہ وہ علم والا ہے۔جہاں کوئی اس لئے بڑا نہ سمجھا جائے کہ وہ کوئی بڑا عہدہ دار ہے۔بلکہ وہاں بڑائی کا معیار اللہ تعالیٰ کے ارشاد