خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 431
431 حضرت اقدس کی بعثت کی غرض احیاء شریعت اور ایک نئی زمین اور نئے آسمان کا قائم کرنا تھا۔وہ نیا آسمان اور نئی زمین تبھی تعمیر ہو سکتے ہیں جب پرانی زمین اور پرانے آسمان سے منہ موڑتے ہوئے موجودہ تہذیب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ہم اس تہذیب کو اپنا ئیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی قائم کردہ ہے اور حقیقی تقویٰ پر قائم ہوں۔ہم قربانی دیں جذبات کی ، قربانی دیں دیرینہ عادات کی قربانی دیں اپنی برادری کی روایات کی تا دنیا کی محبت دل سے نکل جائے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر تلخی کی زندگی کو قبول کریں۔جیسا کہ خود حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ فرماتے ہیں:۔تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اس یار کے لئے رہ عشرت کو چھوڑ دو راه سو لعنت کو چھوڑ دو ہے یہ لعنت کی رو ورنہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ تلخی کی زندگی کو کرو صدق سے قبول ہو ملائکہ عرش کا نزول تا تم اسلام چیز کیا ہے؟ خدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش پئے مرضی خدا حضرت مصلح موعود نے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے نکاحوں کا اعلان فرماتے ہوئے خطبہ میں فرمایا تھا دنیا اسلام اور اس کی تعلیم سے بہت دور چلی گئی ہے آج نادان لوگ اسلام اور اسکی تعلیم پر ہنستے ہیں اور اس زمانہ میں حضرت اقدس) نے یہ آواز بلند کی ہے کہ اس تعلیم کے ساتھ دنیا کی نجات وابستہ ہے اور ہمارا فرض ہے کہ آپ کے ارشاد کے مطابق اسلام کی تعلیم کو دنیا میں قائم کریں۔تمام رواج اور تمدنی پابندیوں کو ترک کر دیں تا وہ اسلامی فضا جو حضرت اقدس۔ناقل ) دنیا میں قائم کرنا چاہتے تھے قائم۔۔۔۔۔۔