خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 430 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 430

430 سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرُطُومِ (القلم: 17) اس دنیا میں انہوں نے اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پرواہ نہ کی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قیامت کے دن ہم ان اونچی ناکوں کو داغ لگائیں گے۔عهد بیعت هم سے کیا تقاضا کرتا ہے : حضرت اقدس نے اپنی بعثت کی ایک غرض یہ بتائی ہے کہ آپ کی بیعت کے ذریعہ ایک گروہ متقیوں کا پیدا ہو جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والا ہو۔اگر ہم حضور اور آپ کے خلفاء کی کامل اطاعت کر کے اپنے آپ کو اس تقوی شعار لوگوں کی جماعت میں شامل کرتے ہیں تو یقیناً ہم اپنے عہد بیعت کو پورا کرنے والے ہیں کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور مال اور اپنی عزت اور اپنی اولا د اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔حضور فرماتے ہیں:۔وو یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ متقین یعنی تقوی شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے اور ان کا اتفاق اسلام کے لئے برکت و عظمت و نتایج خیر کا موجب ہو۔اور وہ برکت کلمہ واحدہ پر متفق ہونے کے اسلام کی پاک و مقدس خدمات میں جلد کام آسکیں اور ایک کاہل اور بخیل و بے مصرف مسلمان نہ ہوں اور نہ ان نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ و نا اتفاقی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا ہے بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں یتیموں کے لئے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش اس بات کے لئے کریں کہ ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں اور محبت الہی اور ہمدردی بندگان خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت میں بہتا ہوا نظر آ وے۔خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں اور اس ناچیز کی توجہ کو ان کی پاک استعدادوں کے ظہور و بروز کا وسیلہ ٹھہر اوے اور اس قدوس جلیل الذات نے مجھے جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگی کے ازالہ کے لئے رات دن کوشش کرتا رہوں اور ان کے لئے وہ نور مانگوں جس سے انسان نفس اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے اور بالطبع خدا تعالیٰ کی راہوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ان کے لئے کہ جو داخل سلسلہ ہو کر صبر سے منتظر رہیں گے ایسا ہی ہوگا۔“ روحانی خزائن جلد 3 ازالہ اوہام صفحہ 562561