خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 429 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 429

429 تحدیث مجھ پر فرض ہے پس میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔۔۔اس وقت جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا اس تقریب پر میں چند دعائیہ شعر جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہولکھ دوں میں جیسا کہ ابھی کہا ہے کہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک سمجھا اور میں نے مناسب جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کردوں۔“ ملفوظات جلد دوم صفحہ 389 390 ) یہ رسمیں کیسے بنتی ہیں؟ کیوں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے محض نمائش اور دکھاوا اور اس بات کے اظہار کے لئے کہ ایک نے شادی یا کسی اور تقریب پر پانچ ہزار خرچ کئے تو دوسرا نخریہ یہ کہتا ہے میں نے دس ہزار کئے محض نمائش۔دکھاو یا برادری میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے۔حالانکہ مومن کی زندگی کا مقصد دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہوتا ہے اور یہی مقصد ہر احمدی عورت اور مرد کا ہونا چاہئے اور ہر کام کرنے کی نیت محض رضائے الہی اور اطاعت رسول ﷺ ہونی چاہئے۔دنیا کو دین پر مقدم رکھنے والوں کے انجام کی طرف قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یوں توجہ دلائی ہے فرمایا فَأَمَّا مَنْ طَغَى وَاثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأوى (النازعات : 38) یعنی جس شخص نے احکام الہی سے سرکشی اختیار کی اور دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی۔یقینا جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔لیکن اس کے برعکس فرماتا ہے اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأوى - النزعت 41 42) جس نے اپنے رب کی شان سے خوف کیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا اور خدا تعالیٰ کی خاطر برادری کے تعلقات کی پرواہ نہ کی یقیناً جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔اسی چیز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔خدا تعالیٰ کے احکام میں ایک حصہ نواہی کا ہے یعنی بعض باتیں ایسی ہیں جن سے وہ روکتا ہے مثلاً دنیوی رسم و رواج ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ بچوں کی بیاہ شادی پر خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ وہ اسراف ہے جس سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے رسم و رواج کو پورا کرنے کے لئے خرچ نہ کیا تو ہمارے رشتہ داروں میں ہماری ناک کٹ جائے گی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری خاطر رسم و رواج کو چھوڑ کر اپنی ناک کٹواؤ تب تمہیں میری طرف سے عزت کی ناک عطا کی جائے گی" خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ 216 اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے متعلق جو اللہ تعالیٰ کے تعلقات پر دنیا کے تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں فرماتا ہے