خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 426
426 میں بھی ختنوں کے موقعہ پر باقاعدہ تقریب کی جاتی ہے دعوت ہوتی ہے عزیز اور اقرباء ا کٹھے ہوتے ہیں اور اسراف ہوتا ہے حالانکہ یہ صریحاً بدعت ہے اس کا جواز اسلامی تاریخ اور سنت سے کہیں نہیں ملتا۔بسم اللہ کی رسوم : بچوں کے سلسلہ میں ایک رسم اور کی جاتی ہے اور وہ ہے بسم اللہ کی تقریب۔ہر مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کی طرف توجہ دے۔در حقیقت تو جس دن بچہ پیدا ہوتا ہے اذان دینے سے ہی اس کی تربیت شروع ہو جاتی ہے تاہم جب پڑھنے کے لائق ہو تو اس کی تعلیم کا انتظام کیا جائے سب سے مقدم یہ ہے کہ پہلے قرآن مجید پڑھایا جائے بعض لوگ بچے خواہ بعد میں پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن چار یا ساڑھے چار سال کی عمر میں با قاعدہ بچہ کی بسم اللہ کی تقریب منعقد کرتے ہیں اور اسراف سے کام لیتے ہیں۔ایک شخص نے بذریعہ تحریر حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ ہمارے ہاں رسم ہے کہ جب بچہ کو بسم اللہ کرائی جائے تو بچہ کوتعلیم دینے والے مولوی کو ایک عد د ختی چاندی یا سونے کی اور قلم و دوات چاندی یا سونے کی دی جاتی ہے اگر چہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر چاہتا ہوں کہ یہ اشیاء اپنے بچہ کی بسم اللہ پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں۔حضرت اقدس نے جواب میں فرمایا :۔سختی اور قلم و دوات سونے یا چاندی کی دینا یہ سب بدعتیں ہیں ان سے پر ہیز کرنا چاہئے اور باوجود غربت کے اور کم جائیداد ہونے کے اس قد را سراف اختیار کرنا سخت گناہ ہے۔“ ملفوظات جلد پنجم صفحہ 265 ایک اور رسم جو انگریزوں کی تقلید میں اب ہمارے ملک میں جاری ہوگئی ہے وہ ہے سالگرہ کی رسم یعنی بچہ کی پیدائش کا دن ہر سال منانا اور اس پر دعوت پارٹی دینی یہ سب فضولیات ہیں جن سے گریز کرنا چاہئے۔بے شک آنحضرت ﷺ نے فرمایا خُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا كَدَرَ اگر اچھی پاک صاف بات کسی قوم میں بھی نظر آئے تو اسے اختیار کرو۔لیکن بُری بات اپنی قوم میں بھی ہو تو چھوڑ دو۔سالگرہ کی رسم ما صفا کے تحت نہیں آتی۔یہ تو نقل ہے مغربی تہذیب کی۔فائدہ اس کا کچھ نہیں وہی مال جو انسان غریبوں کی مدد کے لئے یا اشاعت اسلام کے لئے خرچ کر سکتا تھا وہ ایک دن کی تقریب میں خرچ کر دیتا ہے۔اس کی بجائے اگر ماں باپ اپنے بچے کے ایک اور سال خیریت سے گزرنے پر اللہ تعالیٰ