خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 427
427 کے شکر گزار بندے اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے غریب اور ضرورت مند بندوں کے کپڑوں تعلیم اور علاج پر خرچ کریں تا قوم کو فائدہ ہو اور اللہ تعالیٰ خوش ہو۔آمین کی تقریب :۔احمدی گھرانوں میں ایک اور تقریب منائی جاتی ہے جس کو آمین کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کے قرآن مجید ختم کرنے کی خوشی میں کوئی تقریب بغرض دعا منعقد کی جائے تا بچہ کو یہ احساس ہو کہ میرا پہلا فرض قرآن مجید ختم کرنا تھا۔الحمد للہ کہ میں نے ختم کر لیا اور دوسرے بچے جو شامل ہوں ان کو تحریک ہو جائے کہ ہم بھی جلدی جلدی پڑھیں۔ہمارے لئے اصل جواز اس کام میں ہے جو حضرت مسیح موعود آخر الزمان نے کیا اور جس کا نمونہ پیش فرمایا حضور نے اپنے بچوں کی آمین کی اس لئے ہمارے لئے بھی یہ فعل جائز ہے لیکن اس کو بھی رسم نہیں بنانا چاہئے کہ ضرور ہی کیا جائے۔اصل غرض دعا ہے اگر اس تقریب میں بھی اسراف سے کام لیا جانے لگ جائے تو یہ تقریب بھی نا پسندیدہ امر بن جائے گی۔ہاں سادگی سے دعا کی غرض سے تقریب منعقد کی جائے تو اچھی اور پسندیدہ بات ہے۔نومبر 1901ء میں جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی آمین ہوئی اس وقت جیسا کہ حضرت اقدس کا معمول تھا کہ خدا تعالیٰ کے انعام و عطایا پر شکریہ کے طور پر صدقات دیتے تھے آپ نے دعوت دی اس پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ایک سوال کیا کہ حضور یہ جو آمین ہوئی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے جو کچھ فرمایا وہ بہت سے شبہات کا ازالہ کرتا ہے اور ہر کام کرتے وقت ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا:۔” جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر سوچا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔ملفوظات جلد دوم صفحه 385 آپ نے فرمایا:۔دو بخاری کی پہلی حدیث یہ ہے کہ اِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ اعمال نیت ہی پر منحصر ہیں صحت نیست کے ساتھ کوئی جرم بھی جرم نہیں رہتا۔قانون کو دیکھو اس میں بھی نیت کو ضروری سمجھا ہے۔مثلاً ایک باپ