خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 26 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 26

26 کی بدولت اس نے یہ مقام حاصل کیا محض عیسائی اقوام کی عورتوں کی اندھی تقلید میں مغربی دنیا عرصہ دراز تک عورت کو مظالم کا تختہ مشق بناتی رہی ہے۔آج وہاں اس کا رد عمل ہو رہا ہے۔لیکن اسلام فطرت کا مذہب ہے۔مسلمان عورتوں کو مغربی مستورات کی نقل میں اسلام کے واضح احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہی ان پر رحم فرمائے اور انکو سمجھ عطا فرمائے۔آمین۔بے پردگی کی وجوہ : اس تمہید کے بعد اس سوال کی طرف آتی ہوں کہ اسلام کے ایک صریح حکم کی خلاف ورزی کرنے اور پھر اس پر اصرار کرنے کی کیا وجہ ہے۔اور اس کی اصلاح کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔بے پردگی جس کا رجحان دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔دراصل اس کی وجہ اسلام کی تعلیم سے ناواقفیت اور مغربیت کا تتبع ہے۔ایک لمبے عرصہ تک مسلمان ہندوؤں کے ہمسایہ رہے ان کی صحبت میں پردہ کے معاملہ میں مردوں نے عورتوں پر اتنی سختی کی کہ وہ بالکل بے دست و پا ہو کر رہ گئیں۔جہالت ان میں عام ہوگئی۔علم وعمل سے وہ بالکل بے بہرہ ہو گئیں۔انگریزوں کی حکومت میں آہستہ آہستہ تعلیم کا پھر رواج ہوا۔اور مسلمان عورتوں نے بھی ہر بات میں انگریزوں کی تقلید شروع کر دی۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہوا کہ انگریز اس ملک سے چلے گئے۔غلامی کی زنجیریں کٹ گئیں۔مسلمانوں کو آزادی ملی مگر ظاہری آزادی۔ان کی روح ابھی غلام ہے کیونکہ جب تک کسی قوم کا ذہن غلام رہے وہ قوم آزاد نہیں سمجھی جاسکتی۔مسلمان قوم بظا ہر آزاد ہو گئی لیکن فیشن اور مغربیت کی تقلید کی لعنت میں ایسی گرفتار ہوئی کہ آہستہ آہستہ ان کی تقلید میں مذہبی احکام کو بھی پس پشت ڈال دیا۔پر وہ ایک اسلامی حکم ہے۔مسلمان عورتوں نے مغربی عورتوں کی بے پردگی کو اپنا کر اسلام کے ایک حکم سے لا پرواہی اختیار کر لی۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ من تَشَبِّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ( مسند احمد بن مقبل جلد 2 صفحه (50) کہ جو شخص اپنی ملت اور قوم کا طریق چھوڑ کر کسی دوسری قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اسی قوم میں سے سمجھا جائے گا۔اس مختصر سی لیکن نہایت پر حکمت حدیث میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو ہوشیار فرمایا ہے کہ وہ کبھی کسی دوسری قوم کی تہذیب اور تمدن کے نقال نہ بنیں بلکہ اس یقین کے ساتھ ترقی کی طرف قدم اٹھاتے جائیں کہ اسلامی تمدن ہی بہترین تمدن ہے اور اسلامی شعار پر قائم رہتے ہوئے ہی وہ فتح پاسکیں گے۔ورنہ ذہنی طور پر غلام اور محکوم ہو جائیں گے۔مگر افسوس کہ اپنے آقا ﷺ کی اس اعلیٰ درجہ کی حکیمانہ تعلیم کے باوجود آج کل کے مسلمان مرد بھی اور عورتیں بھی اپنی انفرادیت کو کھو کر مغربی ممالک کے ذہنی طور پر غلام بن چکے ہیں۔مسلمان مردوں کی داڑھیاں غائب ہوئیں اور عورتیں گھر کی زینت بنے کی بجائے سڑکوں کی زینت بننے کے لئے بے پردہ