خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 421 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 421

421 میاں اللہ بخش صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ حضور یہ جو باراتوں کے ساتھ باجے بجائے جاتے ہیں اس کے متعلق حضور کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا:۔فقہاء نے اعلان بالدف کو نکاح کے وقت جائز رکھا ہے اور یہ اس لئے کہ پیچھے جو مقدمات ہوتے ہیں تو اس سے گویا ایک قسم کی شہادت ہو جاتی ہے۔ہم کو مقصود بالذات لینا چاہئے۔اعلان کے لئے یہ کام کیا جاتا ہے یا کوئی اپنی شیخی اور تعلقی کا اظہار مقصود ہے بلکہ نسبتوں کی تقریب پر جوشگر وغیرہ بانٹتے ہیں۔۔۔۔۔۔66 دراصل یہ بھی اسی غرض کے لئے ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔مگر اب یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 310 حضرت اقدس کے اس ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ شادی کا اعلان ہونا ضروری ہے اس غرض سے پہلے دف بجائی جاتی تھی اب یہ اعلان مسجد میں ہو جاتا ہے یا الفضل اور سلسلہ کے کسی اور اخبار میں شائع ہو جاتا ہے اور جماعت کو معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں گھرانہ میں نکاح ہو گیا ہے۔چپ چاپ بغیر اعلان شادی جائز نہیں۔آتش بازی وغیرہ کے متعلق آپ فرماتے ہیں:۔آتش بازی اور تماشا وغیرہ یہ بالکل منع ہیں کیونکہ اس سے مخلوق کو کوئی فائدہ بجز نقصان کے نہیں ہے۔ملفوظات جلد دوم صفحه 310 پھر یہ سوال آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ لڑکی یا لڑکے والوں کے ہاں جو جو ان عورتیں مل کر گاتی ہیں وہ کیسا ہے فرمایا: اصل یہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح پر ہے۔اگر گیت گندے اور نا پاک نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں۔رسول اللہ ﷺ جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے غرض اس طرح پر اگر فسق و فجور کے گیت نہ ہوں تو منع نہیں مگر مردوں کو نہیں چاہئے کہ عورتوں کی ایسی مجلسوں میں بیٹھیں یہ یا درکھو کہ جہاں ذرا بھی منظنہ فسق و فجور کا وہ منع ہے۔بزہد و ورع کوش و صدق و صفا مصطف ولیکن میزائے پر یہ ایسی باتیں ہیں کہ انسان خودان میں فتویٰ لے سکتا ہے جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔وہ منع ہے اور پھر جو اسراف کرتا ہے وہ سخت گناہ کرتا ہے۔اگر