خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 417
417 مشاورت کا فیصله: چنانچہ 1942ء کی مجلس مشاورت جو 3 4 اور 5 اپریل کو منعقد ہوئی۔مشاورت کے ایجنڈا میں ایک تجویز رسومات شادی کے متعلق تھی کہ ان کا سد باب کرنے کے لئے کیا تجاویز اختیار کی جائیں۔سب کمیٹی نے خصوصی طور پر جن رسومات کا ذکر کیا کہ ان کی مخالفت ہونی چاہئے وہ مندرجہ ذیل تھیں:۔1 جہیز اور بری دکھانے کی قطعی ممانعت ہونی چاہئے۔2 لڑکی والوں یا لڑکے والوں کی طرف سے علاوہ مہر کے کپڑوں اور زیورات کی شرط یعنی تعین کا مطالبہ ممنوع قرار دیا جائے۔3 مہندی کی رسم یعنی لڑکے کے رشتہ دار عورتوں کا اجتماعی صورت میں لڑکی والوں کے گھر لے کر جانا بند کیا جائے۔حضرت مصلح موعود کی تقریر :۔ان تجاویز پرنمائندگان کے اظہار خیالات کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے فرمایا:۔شادی بیاہ کی رسوم یا دوسری رسوم ایسا نازک اور اہم سوال ہے کہ جو کسی زندہ جماعت کی دائمی توجہ کا مستحق ہے دنیا میں تین قسم کے مذاہب ہیں ایک وہ جنہوں نے حرمت پر زیادہ زور دیا ہے یہ بھی حرام ہے دوسرے وہ جنہوں نے حلت پر زور دیا ہے جیسے عیسائی مذہب ہے اس نے ہر چیز کو حلال کر دیا ہے۔تیسری قسم اسلام ہے یعنی اس میں بعض چیزیں حلال بھی ہیں اور حرام بھی ہیں۔پھر ایسی صورتیں ہیں کہ ہر حال میں حرام کی اور ہر حرام میں حلال کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔اسلام نے اصولی طور پر بعض چیزوں کے متعلق ہدایات دے دی ہیں اور پھر انسان کی عقل پر چھوڑ دیا ہے پس اسلام نے حلال و حرام دونوں حالتوں میں عقل سے کام لینے کا حکم دیا ہے اور بعض اصول مقرر کر دیئے ہیں اور یہی حالت رسوم کے متعلق ہے۔اسلام نے بعض باتیں کرنے کا حکم دیا ہے اور بعض سے منع کیا ہے۔مثلاً ولیمہ کا حکم اسلام نے دیا ہے مگر دوسری طرف اسراف سے منع کیا ہے اور ولیمہ کے وقت اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔“ حضور نے مزید فرمایا:۔مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس بارہ میں ہماری جماعت میں زیادہ اسراف ہو رہا ہے۔ہم یہ جو قوانین بناتے ہیں یہ دائمی نہیں آئندہ نسل اگر چاہے تو ان کو بدل بھی سکتی ہے اس وقت ہم جو قوانین بناتے ہیں ان کا