خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 413
413 يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔اسلام سادگی سکھاتا ہے تکلف ار تصنع کو نا پسندفرماتا ہے لیکن ہمارے ہاں شادیوں میں بھاری چیزوں کے مطالبہ جات کئے جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی نے بہت دفعہ نکاح پڑھاتے وقت جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ مطالبات نہ کریں۔27 / مارچ 1931ء کو نکاح کا خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا:۔اس امر کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ رسمیں خواہ کسی رنگ میں ہوں بُری ہوتی ہیں اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے اگر بعض رسمیں مٹائی ہیں تو دوسری شکل میں بعض اختیار کر لی ہیں۔نکاحوں کے موقعوں پر پہلے تو گھروں میں فیصلہ کر لیا جاتا تھا کہ اتنے زیور اور کپڑے لئے جائیں گے۔پھر آہستہ آہستہ ایسی شرائط تحریروں میں آنے لگیں۔پھر میرے سامنے بھی پیش ہونے لگیں۔شریعت نے صرف مہر مقرر کیا ہے اس کے علاوہ لڑکی والوں کی طرف سے زیور اور کپڑے کا مطالبہ ہونا ہے حیائی ہے اور لڑکی بیچنے کے سوا اس کے اور کوئی معنے میری سمجھ میں نہیں آئے۔میں آئندہ کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ اگر مجھے علم ہو گیا کہ کسی نکاح کے لئے زیور اور کپڑے کی شرائط لگائی گئیں ہیں یا لڑکی والوں نے ایسی تحریک بھی کی ہے تو ایسے نکاح کا اعلان میں نہیں کروں گا۔الفضل 7 اپریل 1931ء) ہمارے ملک میں سسرال والوں کو جوڑے اور زیور دینے کی منحوس رسم پڑ چکی ہے جس کی وجہ سے احمدی گھرانوں میں رشتوں میں مشکل پیش آ رہی ہے اور اگر رشتہ ہو بھی جائے تو سسرال والوں کے مطالبات پورے نہ کئے جانے کے باعث آپس میں جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔احمدی خواتین اپنے امام کے ہاتھ پر بیعت کرتے وقت یہ عہد دہراتی ہیں کہ ”جو نیک کام آپ بتائیں گے اس میں آپ کی فرمانبرداری کروں گی۔اس رسم کو چھوڑ نا یقینا عہد بیعت کو پورا کرنا ہے کیونکہ اس کا حکم آپ کے امام نے آپ کو دیا ہے۔آپ نے 9 رفروری 1921ء کو ایک نکاح کا خطبہ پڑھاتے ہوئے فرمایا: لوگوں میں رواج ہے کہ جہیز وغیرہ دکھاتے ہیں اس رسم کو چھوڑنا چاہئے۔جب لوگ دکھاتے ہیں تو دوسرے پوچھتے ہیں جب دکھانے کی رسم بند ہوگی تو لوگ پوچھنے سے بھی ہٹ جائیں گے۔“ خطبات محمود جلد 3 ص93