خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 412
412 شرط یہ بھی قرار دی۔(شرط ششم): یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائیگا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر یک راہ میں دستورالعمل قرار دے گا۔“ ہر احمدی مرد اور عورت جس نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس کو اس شرط کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور اپنی روزمرہ کی زندگی کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ بیعت کی اس شرط کے مطابق وہ اتباع رسم سے باز رہتا ہے یا نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور آنحضرت ﷺ کی کامل فرمانبرداری کے ساتھ حضرت موعود آخر الزمان کے احکام کی فرمانبرداری بھی ہم پر لازم ہے۔جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں:۔اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حکم عدل مانا ہے تو اس کے ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کا فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا لیکن اگر تم نے سچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ ﷺ کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو ملفوظات جلد دوم صفحہ 52 یہی اصولی تعلیم ہے جو ہر احمدی مرد اور عورت کے لئے قابل عمل ہونی چاہئے کہ ہم ہر کام سے پہلے اس پر غور کریں کہ آیا یہ قرآن کی تعلیم کے خلاف تو نہیں۔آنحضرت ﷺ کے کسی قول یا سنت کے خلاف تو نہیں اور پھر امام الزمان کے فتوئی اور ارشاد کے خلاف تو نہیں۔اگر اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری زندگیاں بسر ہوں تو یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل کے ہم امید وار ہو سکتے ہیں۔شادی بیاہ سے متعلق رسومات : دوسری قسم کی وہ رسومات ہیں جو مذہب کے ساتھ تو منسوب نہیں کی جاتیں مگر ہماری روایت میں وہ اس طرح مل گئیں ہیں کہ ان سے بظاہر پیچھا چھٹنا مشکل نظر آتا ہے لیکن ہیں وہ صریحا قرآنی تعلیم کے خلاف یہ وہ رسومات ہیں جو عموماً نکاح شادی اور منگنی وغیرہ کے موقع پر کی جاتی ہیں۔شادی کے موقع پر خوشی منانا اچھی بات ہے خوشی کا موقع ہوتا ہے لیکن قرآنی تعلیم ایسے موقعوں کے لئے یہ ہے کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا - (اعراف : 32) اسراف نہ کرو۔اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے إِنَّ اللهَ لَا