خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 409
409 پھر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔آنحضرت ﷺ نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہئے سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت ﷺ نے کیا ہے کہ نہیں اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے یا نہیں؟ حضرت ابراہیم آپ کے جد امجد تھے اور قابل تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولود نہ کروایا “ ملفوظات جلد سوم صفحه 162 " آج کل ایک رسم ختم قرآن کی بھی رائج ہے اس سلسلہ میں حضرت اقدس فرماتے ہیں:۔کیا آنحضرت ﷺ نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا؟ اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ملفوظات جلد سوم صفحہ 162,161 ہم ہزار پر پڑھتے۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ کے پاک کلام قرآن کو نا پاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے ملاں لوگ پڑھتے ہیں۔اس ملک کے لوگ ختم و غیرہ دیتے ہیں تو ملاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شور با اور روٹی زیادہ ہے۔وَلَا تَشْتَرُوا بِايَتِي ثَمَنًا قَلِيلًا - (البقره: 42) یہ کفر ملفوظات جلد سوم صفحہ 158 ہے۔66 ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ جب میں ملازم ہو جاؤں گا تو آدھ آنہ فی روپیہ کے حساب سے نکال کر اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیران پیر کا ختم دلواؤں گا۔اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں۔فرمایا کہ:۔خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جیسے چاہے انسان دے مگر اس فاتحہ خوانی سے ہمیں نہیں معلوم کیا فائدہ؟ اور یہ کیوں کیا جاتا ہے؟ میرے خیال میں یہ جو ہمارے ملک میں رسم جاری ہے کہ اس پر کچھ قرآن شریف وغیرہ پڑھا کرتے ہیں یہ طریق تو شرک ہے اور اس کا ثبوت آنحضرت ﷺ کے فعل سے نہیں غرباء ومساکین کو بے شک کھانا کھلاؤ۔“ ملفوظات جلد سوم صفحہ 180 غرض اس قسم کی اور بھی بہت سی بدعات ہیں جو مذہب کے نام پر لوگوں نے مذہب میں داخل کر کے مذہب کا حصہ قرار دے دی ہیں لیکن تیرہ سو سال کی اسلامی تاریخ میں ان کا نام ونشان بھی نہیں ملتا کہ کبھی مسلمانوں نے ان پر عمل کیا ہو۔مسلمان جب مذہب سے دور جا پڑے تو ان کی گمراہی کو دور کرنے اور صحیح راستے