خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 407 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 407

407 اس الہام میں آپ کے ذریعہ ساری جماعت بھی مخاطب ہو سکتی ہے کہ جس طرح ابناء فارس کے لئے توحید کا دامن مضبوطی سے تھامنا لازم ہے اسی طرح ابناء فارس سے تعلق رکھنے والوں کے لئے یہ بھی وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد ہماری ساری تعلیم گھومتی ہے اگر مرکزی نقطہ ہی کمزور پڑ جائے تو ہمارے سارے دعاوی کمزور پڑ جاتے ہیں۔توحید کا دامن مضبوطی سے تھامنے سے مراد یہ نہیں کہ صرف منہ سے اقرار کرتے رہیں کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں بلکہ خذ والتوحید سے یہ مراد ہے کہ ہر کام کرتے ہوئے ہم پہلے یہ سوچ لیں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی جہاں اللہ تعالیٰ کے احکام اور برادری کی روایات میں ٹکر ہوتی ہو وہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کو ترجیح دیں اور خدا کی خاطر نہ برادری کی پرواہ کریں نہ روایات کی نہ رشتہ داروں کی نہ کسی کے طعن و تشنیع کی۔اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضور اقدس فرماتے ہیں:۔" کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النار ہے اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقرر ہے ادھر ادھر بالکل نہ جاوے کسی کا کیا حق ہے کہ بار بار ایک ملفوظات جلد سوم صفحہ 128 شریعت بنادے۔“ مسلمان قبروں پر عرس کرتے ہیں اس کے متعلق حضرت اقدس بانی سلسلہ فرماتے ہیں:۔شریعت تو اسی بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرت ﷺ نے دیا ہے اسے لے لے اور جس بات سے منع کیا ہے اس سے ہٹے اب اس وقت قبروں کا طواف کرتے ہیں۔ان کو مسجد بنایا ہوا ہے۔عرس وغیرہ ایسے جلسے نہ منہاج نبوت ہے نہ طریق سنت ہے۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 128, 129 " مختلف وظائف اور گنڈے تعویذ کے متعلق آپ فرماتے ہیں:۔”ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پا سکتے ہیں۔آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعا ئیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔سو تم ان سے پر ہیز کرو۔ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کی مہر کو توڑنا چاہا۔گویا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے تم یا درکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی