خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 399
399 کوئی فعل یا قول قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف اگر ہو تو اسے توڑا جائے جبکہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور ہمارے سب اقوال اور افعال اللہ تعالیٰ کے نیچے ہونے ضروری ہیں پھر ہم دنیا کی پر واہ کیوں کریں؟ جو فعل اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف ہو اس کو دور کر دیا جاوے اور چھوڑا جاوے جو حدود الہی اور وصایا رسول اللہ ﷺ کے موافق ہوں ان پر عمل کیا جاوے کہ احیاء سنت اسی کا نام ہے۔“ ملفوظات جلد دوم صفحه 391 اسلام کا پیدا کرده انقلاب : آنحضرت ﷺ سے قبل دنیا شرک گمراہی اور ضلالت میں گھری ہوئی تھی بت پرستی کے ساتھ ساتھ ہزاروں قسم کی رسومات کے پھندے ان کے گلوں میں پڑے ہوئے تھے لیکن ہزاروں درود و سلام اس محسن انسانیت پر جس نے ساری دنیا کو شرک سے پاک کر دیا۔ہزار ہا سال کے پھندے جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے تھے وہ نکال کر پھینک دیئے اور سب قسم کی برائیوں سے پاک کر کے خدائے واحد کے آگے ان کا سر جھکا دیا۔وہ جو بتوں کے آگے سجدہ کرتے تھے اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے تھے وہ ایک خدا کے پرستار ہو گئے اور اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مد نظر رکھنے لگ گئے جو شر ہیں پیتے تھے فسق و فجور میں گرفتار رہتے تھے اور اپنے ان کاموں کو فخریہ بیان کرتے تھے وہ ان افعال سے اس طرح دور بھاگنے لگے جیسے سانپ سے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے اور وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے آپ کی کامل اطاعت کی۔اپنی جان، مال، عزت اور اولا دسب کچھ آپ کے قدموں میں لا ڈالا۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر بے حد فضل اور انعامات کئے اور دنیا کا حکمران ان کو بنا دیا۔شراب ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔جوئے کے وہ عادی تھے لیکن آنحضرت ﷺ کی ایک آواز پر شرابوں کے مٹکے اس طرح تو ڑ دیئے گئے کہ گلی کوچوں میں شراب بہتی پھرتی تھی اور پھر کبھی کسی مسلمان کا دہن شراب سے آشنا نہ ہوا۔ہر قسم کے رسوم، برائیاں ، نفسانی خواہشات ، احباب ، دوست چھوڑ کر انہوں نے آنحضرت ﷺ کی محبت اور اطاعت کو اختیار کر لیا۔جیسا کہ حضرت اقدس فرماتے ہیں: قَد الرُوكَ وَفَارَقُوا أَحْبَابَهُمُ وَتَبَاعَدُوا مِنْ حَلْقَةِ الْإِخْوَانِ قَدْ وَدْعُوا أَهْوَاءَ هُمْ وَنُفُوسَهُمُ وَتَبَرَّؤُوا مِنْ كُلِّ نَشْبٍ فَانٍ