خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 397
397 خطاب جلسہ سالانہ 1966ء رسومات کے متعلق اسلامی تعلیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم تیرا نبی جو آیا ملا اس نے خدا دکھایا دین قویم لایا ہو بدعات کو مٹایا شریعت اسلامیہ کے بنیادی اصول صرف تین ہیں۔قرآن مجید۔سنت رسول ﷺ اور حدیث اور۔رسول اس زمانہ کے لحاظ سے موعود آخر الزمان کے فتاوی۔کیونکہ اس زمانہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو حکم اور عدل بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ نے دنیا کو بتایا کہ کونسا کام صحیح ہے اور کونسا غلط۔رسم کی تعریف : اس اصولی تعلیم کے لحاظ سے ہم رسم اس کام کو کہیں گے جس کا ثبوت قرآن مجید اور حدیث رسول اللہ سے نہ ملے۔جس کا کرنا آپ کے خلفاء رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہوتا ہو اور جو انسان اس لئے نہ کرتا ہو کہ اس کے لئے ضروری ہے بلکہ اس لئے کہ اس کے باپ دادا یہ کام کرتے چلے آئے ہیں اور اس کے کرنے کی غرض خود نمائی اور اپنی برادری کنبہ میں اپنی ناک اونچی رکھنا ہو۔رسول کریم ﷺ کی بعثت کی غرض :- آنحضرت ﷺ کی بعثت کی غرض ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بیان فرمائی ہے کہ آپ نوع انسانی کو ان قسم قسم کے پھندوں سے آزاد کروائیں۔جن کے طوق انسانوں نے خود پہن رکھے تھے اور ان کی روح کو پاک وصاف کر کے ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں۔مذہب کا مرکزی نقطہ توحید ہے یعنی انسان کی پوری توجہ اس کی عبادت اس کے بندوں سے تعلقات۔رشتہ داریوں کا نبھانا۔مرنا جینا سب اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو جب انسان توحید کے اس مقام سے جہاں اس کے لئے قائم ہونا ضروری ہے ذرا بھی ادھر ادھر ہتا ہے تو پہلے مختلف رسومات میں گرفتار ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ ان کے جال میں ایسا پھنستا ہے کہ شرک کرنے پر اتر آتا ہے۔گویا شرک لازمی نتیجہ ہے۔رسومات کی پیروی کا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيُّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ