خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 393
393۔یا نہیں ماں باپ کے اندر یہ روح پیدا ہونی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو ایم اے کروائیں۔ڈاکٹریاں پڑھائیں وہ دنیا میں جو چاہیں انہیں تعلیم دلائیں۔مگر ساتھ ساتھ یہ دیکھیں کہ دینی پہلو تشنہ نہ رہ جائے تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں قرآن بھی آتا ہو۔قرآن حجم کے لحاظ سے کیسی چھوٹی سی کتاب ہے۔اور کتنی آسان ہے۔بے شک ہماری زبان میں نہیں۔لیکن کیا ہماری لڑکیاں بی اے، ایم اے عربی لے کر پاس نہیں کرتیں۔کیا وہ فارسی دوسری زبان لے کرایم۔اے کی ڈگری نہیں لیتیں۔کیا انگریزی ہماری اپنی زبان ہے۔ہر جماعت میں انگریزی کی مشکل سے مشکل کتابیں ہوتی ہیں اور اس میں وہ اعلیٰ نمبر لے کر کامیاب ہوتی ہیں موٹی موٹی کتابیں شروع سے لے کر آخر تک رٹی ہوئی ہوتی ہیں۔لیکن اگر انہیں یاد نہیں ہوتا تو صرف قرآن مجید کا ترجمہ۔یہ بڑا افسوسناک امر ہے۔میں یہ امید کرتی ہوں کہ یہ رو جو تعلیم القرآن کلاس کی وجہ سے چلی ہے۔اس رو کو آپ تازہ رکھیں گی۔یہ صرف دس روزہ کلاس ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کے بعد ایک ایسی سکیم بنائی جائے گی جس سے سرگودھا کی تمام عورتوں اور بچیوں میں قرآن شریف پڑھنے کا شوق پیدا ہو جائے۔تھوڑا سا انہیں سبقاً پڑھنا چاہئے۔جب وہ کچھ حصہ سبقا پڑھ لیں گی تو پھر اگر وہ چاہیں تو آہستہ آہستہ تفسیر صغیر کے ساتھ پڑھیں کیونکہ یہ بہت آسان طریقے پر لکھی گئی ہے۔بہت سی لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں سکول اور کالج کی فیس ادا کرنے کی توفیق نہیں ہوتی اور پرائیویٹ طور پر ایف۔اے بی۔اے اور ایم۔اے کا امتحان پاس کر لیتی ہیں تو کیا وہ اپنی محنت سے اور تھوڑی سی دوسرے کی مدد سے قرآن مجید کا ترجمہ نہیں پڑھ سکتیں۔صرف غفلت اس بات سے ہے کہ ہمیں یہ احساس نہیں کہ اگر ہم نے قرآن شریف نہ پڑھا تو ہم کتنی بد قسمتی کا شکار ہوں گے۔آج اسلام پر اعتراض کرنے والے کوئی قرآن کی اصولی تعلیم پر اعتراض نہیں کرتے۔بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ بے شک جو اخلاقی تعلیم اور معیار قرآن پیش کرتا ہے وہ نہایت اعلیٰ ہے۔مگر مسلمان ان پر عامل نہیں۔مذہب ان کی ترقی میں روک ہے۔یہ حقیقت بھی ہے کہ مسلمان وہ نہیں ہیں جو قرآن مجید نے پیش کئے ہیں۔اس میں قرآن مجید کا قصور نہیں۔تعلیم کا قصور نہیں مسلمان جب تک قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرتے رہے وہ ساری دنیا کے معلم رہے وہ ساری دنیا کے استادر ہے اور ساری دنیا کے فاتح رہے۔آج بھی مسلمان اگر دنیا کے فاتح بنا چاہتے ہیں آج بھی اگر مسلمان دوسری قوموں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کریں۔جس دن انہوں نے یہ حربہ اختیار کیا۔جس دن انہوں نے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح پھر سے اپنی زندگیاں قرآن مجید کی روشنی میں