خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 376 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 376

376 خلیفہ وقت کی پیش کردہ تحریکات:- حضرت مصلح موعود کی یہ ہدایت اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمُ (النساء : 52) کی تفسیر ہے۔چنانچہ بجنہ اماءاللہ کی میرات کا یہ فرض اولین ہے کہ ان کا سب سے بھاری فرض خلیفہ وقت کی پیش کردہ تحریکوں کی عورتوں میں اشاعت اور ان کے مطابق عمل کرنا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے جماعت کے مردوں اور عورتوں کے لئے چار قسم کی تحریکات پیش کی گئی ہیں۔جن کا تعلق مالی قربانی سے بھی ہے۔تعلیم سے بھی ہے۔تربیت سے بھی اور تبلیغ یعنی اشاعت اسلام سے بھی۔فضل عمر فاؤنڈیشن:۔سب سے پہلی تحریک جو آپ کی اجازت سے پیش کی گئی ہے۔وہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک ہے۔جو حضرت مصلح موعود کی یادگار کے طور پر پیش کی گئی ہے۔حضرت مصلح موعود کی پیدائش سے بھی قبل اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔یہ برکت اور شہرت صرف آپ کی زندگی تک محدود نہ تھی۔بلکہ یہ پیشگوئی ہمیشہ کے لئے ہے کسی صداقت کا نشان عارضی نہیں ہوتا۔بلکہ وہ دائمی ہوتا ہے۔آپ کا وجود زندہ نشان تھا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کا آپ کا وجود زندہ نشان تھا۔آنحضرت ﷺ کی صداقت کا۔آپ کا وجود زندہ ثبوت تھا اسلام کی صداقت کا اور آپ کا وجود زندہ نشان تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے 28 دسمبر 1944ء میں جب جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنے دعوی مصلح موعود کو پیش فرمایا تو پیشگوئی مصلح موعود کی سات اہم اغراض بیان فرمائی تھیں۔آپ نے فرمایا تھا۔اس کی کئی اغراض ہیں۔اول یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت سے نجات پائیں اور جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آئیں۔دوسرے: یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی تھی تا دین اسلام کا شرف ظاہر ہواور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر عیاں ہو۔تیرے: آپ نے فرمایا یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے تا کہ حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے