خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 374 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 374

374 موقع پر ہی لجنہ کی نمائندگان کی مجلس شوری منعقد ہوتی رہی۔1947ء میں پاکستان منصہ شہود پر آیا اور یہاں بھی شروع میں جلسہ سالانہ کے موقع پر ہی ہوتی رہی۔آہستہ آہستہ جب لجنہ اماءاللہ کے کام کو ترقی ہوئی تو لجنہ اماء اللہ نے 1956ء میں اپنا پہلا اجتماع منعقد کیا۔جس میں حضرت مصلح موعود نے بھی تقریر فرمائی اور ہدایات سے نوازا۔بعض مجبوریوں کے باعث دو اجتماع نہ ہو سکے۔چنانچہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ نو واں اجتماع منعقد ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے کامیاب فرمائے اور آپ سب کو اس کی برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔سال رواں کا سب سے اہم اور سب سے المناک واقعہ جماعت کے نہایت ہی محبوب امام حضرت مصلح موعود کی ہم سے دائمی جدائی کا ہے وہ مجسم نور جس کا آنا بھی اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے مطابق تھا۔جس کی زندگی کا ایک ایک دن اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اسلام کی صداقت پر ایک مجسم دلیل تھا۔اور جس کا نفسی نقطہ آسمان پر اٹھایا جانا بھی اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق تھا۔وہ ابر رحمت بن کر 52 سال عالم احمدیت پر برستا رہا۔لیکن طبقہ نسواں نے تو اس کی برکتوں سے بہت ہی فائدہ اٹھایا۔آج یہ سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ کی تنظیم ، لڑکیوں کا کالج لڑکیوں کے سکول اور دوسرے ادارے قدم قدم پر کیا اس محسن نسواں کی یاد نہیں دلا ر ہے؟ جس نے احمدی عورت کو جہالت کے گڑھے سے اٹھا کر علم کی دولت سے مالا مال کر دیا۔جس نے احمدی عورتوں کے حقوق کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کی۔جس نے احمدی عورتوں کو ان کا حق وراثت دلوانے کے لئے جد و جہد کی۔جس نے احمدی عورتوں کو جماعتی امور میں حق رائے دہندگی عطا کیا۔جس نے احمدی عورتوں کی تربیت اور بہبودی کے لئے اپنی جان لڑا دی۔اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی۔ہمارے سر، ہماری روح ، ہماری جانیں اس کے فیصلہ اور اس کی رضا کی خاطر خم ہیں لیکن ہمارا آقا بڑا ہی مہربان ہے۔اس کا جماعت مومنین سے وعدہ ہے کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مَنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ - النور : 56 کہ اگر تم ایمان پر قائم رہو گے اور اعمال صالحہ بجالاتے رہو گے۔تو اللہ تعالیٰ تم میں انعام خلافت کو قائم کر دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد اس انعام