خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 370 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 370

370 خطاب بر موقعہ سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 121اکتوبر 1966ء آپ نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ناصرات الاحمدیہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت میرا خطاب صرف ناصرات سے ہے ناصرات کا نام خود بتا رہا ہے کہ آپ کا کام کیا ہے۔آپ کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور آپ کے فرائض کیا ہیں۔ناصرہ مؤنث ہے ناصر کی اور اس کا مطلب ہے مدد کر نیوالی۔پس آپ لوگ احمدیت کی مدد کرنے والیاں ہیں۔اگر آپ اپنے نام کے مطابق اپنے فرائض کو سمجھیں اور ذمہ داریوں کو ادا کریں تو آپ کا کام صبح بھی شام بھی ہر لحظہ یہی ہو کہ آپ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ احمدیت کی خدمت کرنی ہے۔اپنے آپ کو ایسا بنانا ہے کہ بڑے ہو کر آپ احمدیت کی حامی و مددگار اسلام کے جھنڈے کو دنیا کے سب جھنڈوں سے بلند کرنے والی ہوں۔میری عزیز بچیو! تمہارے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ چھوٹی عمر میں ہم کیا کر سکتی ہیں۔اگر بچپن ہی سے آپ کو کام کی عادت ہوگی۔اعلیٰ اخلاق ہوں گے۔ذمہ داری کا احساس وطن سے محبت مذہب سے پیار اور خدا تعالیٰ سے عشق ہوگا۔تو بڑے ہو کر بھی آپ میں یہ عادتیں اور یہ خوبیاں ہوں گی۔اس وقت میں اپنی بچیوں کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروانا چاہتی ہوں کہ پندرہ سال کی عمر کا زمانہ تربیت کا زمانہ ہوتا ہے آپ لوگوں کو ایسی تربیت اور علم حاصل کرنا ہے کہ جب آپ لجنہ کی ممبر بنیں تو آپ کی تربیت کی طرف ہمیں مزید توجہ دینے کی ضرورت نہ پڑے۔آپ میں اعلیٰ اخلاق ہوں۔قربانی کی عادت ہو۔محنت کرنے کا جذ بہ ہو۔اور آپ لجنہ کے کاموں کو اچھی طرح چلا سکیں۔آپ نے فرمایا ہمارا دعویٰ ہے کہ کامل ترین مذہب آنحضرت ﷺ کے ذریعہ نازل ہوا۔اور مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی غرض ہی یہ ہے کہ اسلام کا احیاء کریں اور دنیا کوصحیح اسلام سے روشناس کروائیں۔جب تک آپ لوگ اسلام کا جیتا جاگتا نمونہ نہ بن جائیں ہم لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا سکتے۔اس کے لئے سب سے پہلی چیز قرآن کریم کی تعلیم ہے۔