خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 367
367 یعنی قرآن کریم کا علم حاصل کرتے وقت سب سے زیادہ تو کل اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہئے۔اس لئے جب بھی اس کو پڑھیں اس سے دعا مانگ کر پڑھیں کہ یا اللہ اس کا نور میرے دل میں بھر دے۔میرے دماغ میں بھر دے۔حتی کہ مجھے مجسم قرآن بنادے۔پھر حضور فرماتے ہیں: دوسرا ماخذ قرآنی علوم کا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات ہے۔آپ پر قرآن نازل ہوا۔اور آپ نے قرآن کو اپنے نفس پر وارد کیا حتی کہ آپ مجسم قرآن ہو گئے۔آپ کی ہر حرکت اور آپ کا سکون قرآن کی تفسیر تھے۔آپکا ہر خیال اور ہر ارادہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کا ہر احساس اور ہر جذ بہ قرآن کی تفسیر تھا۔آپ کی آنکھوں کی چمک میں قرآنی نور کی جھلکیاں تھیں اور آپ کے کلمات قرآن کے باغ کے پھول تھے۔ہم نے اس سے مانگا اور اس نے دیا۔اس کے احسان کے آگے ہماری گردنیں خم ہیں۔اللَّهُمْ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں احادیث النبی ﷺ کا علم بھی۔حاصل کرنا چاہئے۔اس سے حدیث کا تعلق بھی قرآن سے ہوتا چلا جائے گا اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ فلاں امر کے متعلق آنحضرت ﷺ کا اسوہ کیا تھا۔اس روشنی میں جب اپنے سید مولی کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے گا تو ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی اور ہمیں پتہ لگتا جائے گا کہ آنحضرت ﷺ نے قرآن مجید کے کس حکم پر کس طرح عمل فرمایا اور ہمیں بھی چاہئے کہ اسی طرح آپ کی پیروی کریں۔تیسرے ماخذ کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: اس زمانہ کے لئے علوم قرآنیہ کا تیسرا ماخذ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود اور مہدی مسعود کی ذات علیہ الصلوۃ والسلام ہے۔جس نے قرآن کے بلند و بالا درخت کے گرد سے جھوٹی روایات کی اکاس بیل کو کاٹ کر پھینکا۔اور خدا سے مدد پا کر اس جنتی درخت کو سینچا اور پھر سبز و شاداب ہونے کا موقعہ دیا۔الحمد للہ ہم نے اس کی رونق کو دوبارہ دیکھا اور اس کے پھل کھائے اور اس کے سایے کے نیچے بیٹھے۔مبارک وہ جو قرآنی باغ کا باغبان بنا۔مبارک وہ جس نے اسے پھر سے زندہ کیا۔اور اس کی خوبیوں کو ظاہر کیا۔مبارک وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اور خدا تعالیٰ کی طرف چلا گیا اسی کا نام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب دراصل قرآن کریم کی تفاسیر ہیں۔قرآن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی کتب کو پڑھا جائے اور بار بار پڑھا جائے۔آپ نے تمام غلط عقائد کو تمام بدعات کو